پاکستان کے چند صحافی ایسے ہیں جو فوج کے خلاف زہر اگلنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں ان کو لفافہ صحافی بھی کہا جاتا ہے -ان ہی میں سے ایک نمایاں نام نجم سیٹھی کا بھی ہے جو فوج کے ہاتھوں کئی بار پٹ بھی چکے ہیں مگرآج تو ٹی وی چینل پر بیٹھ کر انھوں نے تمام حدود کراس کردیں -� آج نجم سیٹھی نے آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل فیض حمید کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میری خبر کاٹ کیوں دیتے ہو ڈرتے کیوں ہوں ایک بار تو وہ سیٹ سے بھی اٹھ گئے –
نجم سیٹھی نے دعویٰ کیاہے کہ میں نے ایک ماہ پہلے بتایا تھا کہ ہینڈلرز ہوتے ہیں- اور اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جنرل فیض حمید عمران خان کے ہینڈلر ہیں جو ان کو اہم راز کی باتیں بتاتے ہیں ، جنرل فیض کے عمران خان سے بڑے اچھے تعلقات ہیں ، خان صاحب تو انہیں آرمی چیف بھی بنانا چاہتے ہیں،

 

نجم سیٹھی کا کہناجنرل فیض ایک اچھے جنرل ہیں، لیکن وہ بہت زیادہ متنازع ہو چکے تھے۔ نجم سیٹھی کا خیال تھا کہ کیونکہ خان صاحب نہ ڈی جی آئی ایس آئی اور نہ ہی آرمی چیف پر اٹیک کر رہے ہیں ،وہ صرف ایک شخص پر کر رہے ہیں ، ظاہر ہے کوئی ان کو کوئی کہہ رہاہے کہ ِادھر کرو ، اُدھر نہ کرو، اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ خان صاحب کے ساتھ وہاں سے جو شخص رابطے میں ہے وہ اسے ٹارگٹ کرنا چاہ رہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے پلانز میں کوئی رکاوٹ ہے ۔

 

چڑیا کی پیشن گوئیاں آجکل کام کیوں نہیں کررہیں اس پر نجم سیٹھی نے کہاکہ میں نے ایک ماہ پہلے ہینڈلر کے حوالے سے بات کی تھی جس میں , میں نے بتایا تھا کہ کون انہیں فیڈ کررہا ہے اور ان کے ہینڈلر کون ہیں؟۔ خاتون میزبان نے کہا کہ ہم کسی مجبوری کے باعث وہ کلپ چلا نہیں سکے تھے ، اس بات پر نجم سیٹھی غصہ کر گئے اور سیٹ سے اٹھ گئے ، سینئر صحافی نے اپنی نئی خاتون اینکر سے کہا کہ یار یہ کیا بات ہوئی ،میری چیزیں سینسر کر دیتے ہیں، پھر فائدہ کیا ہوا اتنی باتیں کرنے کا ، میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جسے روکا جاتا ، آج آپ نے یہ بات چلا دی ، لیکن جو ایک ماہ پہلے کی تھی وہ نہیں چلائی، اسی لیے لوگ کہتے ہیں کہ چڑیا کی خبریں نہیں آ رہیں ، کیونکہ آپ لوگ کاٹ دیتے ہیں ۔

 

ان کا کہنا تھا کہ آج کی انٹیلی جنس سے کوئی خان صاحب کو معلومات نہیں دے رہا ، کل کی انٹیلی جنس ایجنسی یعنی خان کے دور حکومت کے آئی ایس آئی ہیڈ کی جانب سے ہینڈلنگ ہو رہی ہے ۔