پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل کے دعوے پر پھر سوال اٹھادیے ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ میں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نظر نہیں آرہی، ہمارے لوگوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں، اب تک تین لوگ اس حوالے سے سامنے آچکے ہیں جنھوں نے بتایا کہ کہ نامعلوم افراد کی جانب سے انہیں ٹیلی فون کالز آئی ہیں -ان کا کہناتھا کہ اسٹیبلشمنٹ پولیٹیکل انجینیئرنگ کر رہی ہے، نیوٹرلز پنجاب میں پیپلز پارٹی کو لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اور پرویز الہی اس بات کی تیاری کر رہے ہیں کہ 11 جنوری کو عدالت اگر فوری اعتماد کے ووٹ کا کہے تو ہم تیار ہوں۔ پرویز الہی کے باجوہ حمایت بیان پر بات کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ پرویز الہی اور ہم اتحادی ہیں جنرل باجوہ کے بارے میں ان کا اپنا موقف ہے اور ہمارا اپنا موقف ہے۔ پرویز الہیٰ ہمیں ہمارے موقف سے ہٹنے کےلیے نہیں کہہ سکتے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری لڑائی اسٹبلشمنٹ سے نہیں ہے بلکہ انصاف کے حصول کےلیے ہے ہم کوئی کمرومائز نہیں کریں گے سمجوتوں نے ہی اس ملک کو اس حال تک پہنچایا ہے ۔ جنرل باجوہ کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تھے اس لیے مخالفین کے تمام مقدمات ختم ہوگئے، ایک آدمی شہبازشریف کو جینیس ( عقل کل)سمجھتا تھا، دیکھیں اب ملک کا کیا حال ہوگیا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس اب 9 جنوری کو ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ حمل کا پروگرام بنا یا جائے گا -اگر اس دن تحریک انصاف نے 186 ارکان اکھٹے کرلیے تو دلچسپ صورتحال پیدا ہوجائے گی –