ہسپتال میں زیر علاج زخمی فواد نے پولیس کو ابتدائی بیان دے دیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ بیوی نے کھانا کھانے کے بعد مجھ سے بدتمیزی کی، لڑائی جھگڑے پر میری بڑی بیٹی رونے لگی، بیٹی نے کہا آپ لوگوں کےجھگڑے میں ہم پریشان ہوتے ہیں، میری دونوں بیٹیاں سونے کیلئے لیٹ گئیں تھیں، میں بیوی کو سمجھاتےسمجھاتے تھگ گیا تھا، میں پیسوں کی وجہ سے بھی ڈپریشن میں تھا، میں فیصلہ کیا کہ میں سب کو ختم کرکے خود کو بھی ختم کرلوں گا، بیوی واش روم گئی تو تینوں بیٹیوں کو قتل کیا۔

 

ملزم فواد نے بتایا کہ قتل کے بعد تصاویر اپنے انویسٹر کو بھیجیں اورلکھا میں نے اپنی فیملی کو ختم کردیا ، اب میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے لگا ہوں -ملزم کا کہناتھا کہ اس لرزہ خیز واقعے کی وجہ وہ 5 افراد ہیں جن کا قرض اسے ادا کرنا تھا –
فواد فیکٹری میں سیلز منیجر کے طور پر کام کرتا ہے ۔فواد کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فواد فیکٹری میں سیلز منیجر کے طور پر کام کرتا ہے دوپہر ڈیڑھ بجے تک سب کچھ ٹھیک تھا، آج بچیاں سکول اور کالج بھی گئی تھیں،مگر بیٹے کو 4 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے وہ بے حد پریشان تھا ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ اج فواد کے کمرے سے ، میں نے دو چیخوں کی آواز سنی تو میں نے اوپر کال کی کسی نے فون نہیں اٹھایا، میں جب اوپر گئی تو دروازہ بند تھا – ان کا مزید کہن اتھا کہ ہم نے دروازے کو زور سے ہلایا تو کنڈا کھل گیا، اندر گئی تو بچیاں جہاں سوتی تھیں وہیں بے جان پڑی ہوئی تھیں، دوسرے کمرے میں بہو کے اوپر کمبل پڑا ہوا تھا،اند گئی تو میرا بیٹا فواد بھی زخمی پڑا تھا ۔

 

 

فواد کی والدہ نے اس بات کی تائید کی کہمالی پریشانی کے سبب ان دونوں میاں بیوی کا جھگڑا معمول کی بات تھی جس کی وجہ سے ان کی بچیاں بہت پریشان رہتی تھیں ۔اور ان کا یہ جھگڑا ہی اس دلخراش اور افسوسناک واقعے کا سبب بنا –