سندھ کے جوہی شہر کو سیلاب کے خطرے کا سامنا ہے کیونکہ ملک بھر میں آنے والے سیلاب کے درمیان نامعلوم افراد نے جوہی برانچ کینال میں شگاف ڈال دیا اور اب پانی تیزی سے شہر کی جانب بڑھنا شروع ہوگیا ہے
شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سینکڑوں رہائشی اپنے طور پر اس شگاف کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔دریں اثنا، حکام نے سیلابی پانی کو دادو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے لاڑکانہ ،سہون بند میں شگاف ڈال دیا گیا
ایک اور واقعے میں، اچانک سیلاب کے نتیجے میں دال شاخ میں شگاف پڑ گیا اور سیلابی پانی بھان سعید آباد کے ایک گرڈ سٹیشن میں داخل ہو کر شہر کے داخلی بند سے ٹکرا گیاہے اور شہر میں پانی داخل ہونے کا خطرہ ہے ۔ لوگوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہے اور اپنی مدد آپ کے تحت پشتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ کے دو بیراجوں میں اللہ کے فضل سے اب پانی کی سطح تیزی سے کم ہورہی ہے تاہم اس وقت کوٹری بیراج سے اونچا سیلاب گزر رہا ہے۔ کوٹری بیراج کے بعض مقامات پر سیلابی پانی
بہہ رہا ہے۔منچھر جھیل سے پانی کے تیز بہاؤ نے تباہی مچا دی ہے، جس سے سہون کی سات یونین کونسلوں کے 500 سے زائد دیہاتوں کے 150,000 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جہاں پاک فوج متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں کر رہی ہے وہیں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں لوگ پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

 

قمبر شہدادکوٹ سے منچھر جھیل تک 150 کلومیٹر کا علاقہ مکمل طور پر زیر آب ہے اور خیرپور ناتھن شاہ، تحصیل واڑہ، سجاول اور دادو تحصیلوں کے سینکڑوں دیہات اب زیر آب ہیں۔ بوڈا پور ریلوے اسٹیشن اور کھوٹ کے درمیان ریلیف ٹرین کی بوگیاں پٹریوں پر پانی بھر جانے کے باعث پٹری سے اتر گئیں ۔