مفتاح اسماعیل کی پالیسیوں پر مسلم لیگ کے بہت سے راہنما سخت تنقید کر رہے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر کے عہدے سے بھی ہٹا دیا جائے گا اس بات کی خبر مفتاح اسماعیل کو بھی ہے اسی لیے اب انھوں نے بھی چپ کا روزہ توڑ دیا ہے اور اب وہ کھل کر اپنی جماعت کے لوگوں کے بارے میں اپنا موقف بیان کررہے ہیں

ایک نجی ٹی وی وی کو انٹرویو میں مفتاح اسماعیل نے کھل کر اسحق ڈار کو اپنا ناقد قرار دے دیا ان کا کہنا تھا کہ میری اور اسحاق ڈار کی معاشی فلاسفی مختلف ہے، اسحاق ڈار ملک سے باہر گئے اور ان کی واپسی مشکل ہوئی تو پارٹی نے مجھے ذمہ داری سونپی، وزیراعظم شہباز شریف مجھے جس دن ہٹانا چاہیں ہٹادیں میرے لیے اطمنان کا باعث ہوگا ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہا کہ ہم اس سال زرمبادلہ ذخائر بڑھائیں گے، قطر سے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوگا، جب سے شہباز شریف کی حکومت آئی ہے ہم نے ریکارڈ ریونیو جمع کیا ہے انھوں نے عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے جلد امداد ملنے کی امید ہے جس کے بعد ہم مشکلات سے نکل آئیں گے ۔