کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی نے سندھ سرکار کو ہلا کر رکھ دیا -ابھی تک تو ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی مل کر کراچی میں اپنا مئیر نامزد کرلیں گی -کیونکہ آج سعید غنی کی پریس کانفرنس سے بھی اس ہی دکھائی دیا کہ ان کا اور جماعت اسلامی کیا ساتھ مشکل ہوگا کیونکہ پیپلز پارٹی کسی طور بھی جماعت اسلامی کا مئیر بننے پر راضی نہیں ہوگی اور ان کی کوشش ہوگی کی پی ٹی آئی اور جماعت کے کچھ ارکان کو اپنے ساتھ ملاکر معاملہ درست کرلیًں -تاہم ایسا ہوا تو ایک اور بحران جنم لے گا
جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان کو یقین ہے کہ تحریک انساف کی حمایت سے جماعت اسلامی اپنا میئر بنا لے گی ، تاہم انھوں نے پیپلز پارٹی پر ایک بار پھر دھاندھلی کا الزام لگایا -ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ گنتی کی درخواستیں دے کر نتائج بدلے جا رہے ہیں،پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ان کاکہناتھا کہ 40 سے زائد حلقے ایسے ہیں جہاں ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا۔

 

پی ٹی آئی سیکرٹریٹ میں علی زیدی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ علی زیدی اور ان کی ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہیں ،ان کاکہناتھا کہ بلدیاتی الیکشن میں لوگوں نے اپنی رائے کااظہار کیا ، حافظ نعیم نے کراچی الکشنز کے نتائج دیر سے دیے جانے پر بھی تحفظاتکا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے بعدفارم 11 نہیں مل رہے تھے،دوبارہ گنتی میں بھی یوسیز کے نتائج بدلے گئے ،فارم 11 ملے تو نتائج بدلنے شروع کردیئے گئے،بلدیاتی الیکشن کے نتائج سب کے سامنے ہیں آر اوز، ڈی آر اوز پر پہلے بھی تحفظات کااظہار کیا تھا۔