مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے لندن سے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ نہ تو کوئی مطالبات سنیں اور نہ ہی پی ٹی آئی کے چیئرمین کو کوئی فیس سیونگ دیں خواہ وہ 2ہزار لوگ ساتھ لائیں یا 20 ہزار لوگ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز کو اپنی تمام تر توجہ عوام کی خدمت پر مرکوز کرنی چاہیے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا جسے ’’حقیقی آزادی مارچ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

 

جبکہ دوسری جانب عمران خان نے کہا کہ ان کا واحد مطالبہ قبل از وقت عام انتخابات کی تاریخ ہے اور وہ الیکشن کی تاریخ لیے بنا واپس نہیں جائیں گے انھوں نے حکومت سے کہا ہے کہ اگر حکومت مزاکرا کرنا چاہتی ہے تو صدر مملکت عارف علوی سے بات کرے ۔
ہفتے کے روز وزیراعظم نے مارچ کے حوالے سے حکمران اتحادی جماعتوں کے نمائندوں سمیت 13 رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی مذاکرات کا خواہشمند ہے وہ کمیٹی سے رجوع کر سکتا ہے۔
ٹویٹس کی ایک سیریز میں، نواز نے کہا کہ عمران اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے راستہ تلاش کر رہے ہیں . انہوں نے کہا کہ عمران نے بارہا 10 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے کا دعویٰ کیا لیکن ابھی تک 2 ہزار افراد کو اکٹھا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

 

نواز شریف نے کہا کہ عوام کی بے حسی کی وجہ عمران کا وہ جھوٹ تھا جو قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نے ایک کے بعد ایک جھوٹ اتنی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے بولا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اپنی خاموشی توڑکرقوم کو سچ بتانے پر مجبور ہو ئے اسٹیبلشمنٹ نے نا پر جو الزامات عائید کیے تو وہ اتنے دنوں بعد بھی جواب نہیں دے سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران کا ہمیشہ کی طرح سارا زور گندی زبان پر ہے ۔
“نواز نے ٹویٹ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز کو اپنی تمام تر توجہ عوام کی خدمت پر مرکوز کرنی چاہیے۔