اسحاق ڈار نے آج وزیرخزانہ کا حلف اٹھا لیا جس کے بعد وہ پیشی کے لیے عدالت گئے -جج نے ان سے اتنا عرصہ تک پیش نہ ہونے کا سبب پوچھا تو اسحاق ڈار نےعدالت کو بتایا کہ ان کا پاسپورٹ عمران خان کی زیرقیادت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا اور تمام سفارت خانوں کو بھی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اسحاق ڈار نے جج محمد بشیر کو بتایا کہ خراب صحت کے باوجود، بھی میں واپس آنا چاہتا تھا اور اب جب کہ مجھے پاسپورٹ جاری کر دیا گیا ہے، میں واپس آ گیا ہوں ” ۔

 

سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کو ڈار کی درخواست پر نوٹس جاری کیا گیا جس میں ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔وفاقی وزیر کو اب 7 اکتوبر کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے جہاں اثاثہ جات کیس میں وارنٹ منسوخی کی درخواست کی سماعت ہوگی۔اپنی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ ’جھوٹا‘ ہے۔”میں نے ہمیشہ وقت پر ٹیکس گوشوارے جمع کروائے ہیں۔ بدترین مجرم آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ بے گناہوں کو عذاب برداشت کرنا پڑتا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈار نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں ایک دن بھی گھٹیا بیانات دینے کے لیے نہیں چھوڑا گیا۔ملک کی معاشی بدحالی کے حوالے سے ڈار نے پی ٹی آئی پر انگلیاں اٹھاتے ہوئے کہا: ’’عمران خان کی حکومت نے ملکی معیشت کے ساتھ وہ کیا جو اس کے دشمن بھی نہیں کرسکے پاکستان اس وقت جس مالی بحران سے گزر رہا ہے اس کا ذمہ دار عمران خان ہے ۔‘‘