لاہور ہائی کورٹ نے پاکستانی نژاد 15 سالہ برطانوی لڑکی کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں کم عمری میں شادی سے متعلق کیس میں عدالت نے 15 سالہ برطانوی لڑکی کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ نے ایمان رفیق کے بیان کی روشنی میں اسے اس کی والدہ کے حوالے کر دیا۔عدالت نے لڑکی ایمان رفیق کی والدہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ تحریری حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ ایمان رفیق نے عدالت میں واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر عمیر علی نے علیحدگی سے قبل عدالت میں ایمان علی سے چند منٹ ملاقات کی اجازت مانگی۔ تاہم، 15 سالہ ایمان نے علیحدگی میں کمرہ عدالت میں عمیر سے ملنے سے صاف انکار کر دیالاہور ہائی کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت کے 12 ستمبر کے حکم کی روشنی میں ایمان رفیق کو دارالامان سے عدالت لایا گیا اور ایس پی سول لائنز گوجرانوالہ نے لڑکی کی عمر 15 سال ہونے سے متعلق رپورٹ پیش کی۔