اسلام آباد ہائی کورٹ نے غداری کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کی ضمانت منظور کرلی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو شہباز گل کے خلاف ریاستی ادارے کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس کی سماعت دوبارہ شروع کی۔ملزم کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے گل کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے میں 14 دفعات لگائی گئی ہیں، جب کہ تفتیش ختم ہو چکی ہے اور مزید کوئی ریکوری نہیں ہونی ہے۔

 

 

وکیل نے مزید کہا کہ پورا کیس ایک تقریر کے گرد گھومتا ہے۔جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا شہباز گل نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ کیا اس کے استعمال کردہ الفاظ جائز ہو سکتے ہیں؟چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ کیا آئین کے مطابق فوج سیاست میں شامل ہوسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک تقریر نہیں تھی۔
ملزم کا دفاع کرتے ہوئے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گل کی گفتگو کا کچھ حصہ سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا۔ انہوں نے کہیں بھی مسلح افواج کی تضحیک کرنے کی کوشش نہیں کی، شہباز گل نے اپنی گفتگو میں مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت کے ناموں کا ذکر کیا اور پی ٹی آئی رہنما کے خلاف بددیانتی اور پروپیگنڈے پر مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تقریر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے نفرتوں میں کس حد تک اضافہ کیا ہے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ پچھلی حکومت نے بھی بغاوت کے مقدمات بنائے تھے اور موجودہ حکومت نے بھی۔ انہوں نے مزید سوال کیا کہ شہباز گل کی تقریر کے بعد تحقیقات میں کسی سے رابطے کا پتہ چلا یا شہباز گل کے خلاف ابھی تک کوئی متضاد مواد موجود ہےبعد ازاں عدالت نے ریمارکس مکمل کرنے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد شہباز گل کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے پر رہا کرنے کا حکم دیا۔