خاتون جج زیبا کو عمران خان کی جانب سے ایک جلسے میں تقریر کے دوران دھمکیاں دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس من اللہ، جسٹس کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے عمران کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔
عمران خان ے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف دئے گئے بیان کے سبنب ہوا جب اس خاتون جج نے 20 اگست کو ا پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا غداری کیس میں جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

بدھ کو، سابق وزیر اعظم نے پہلے کو “غیر تسلی بخش” قرار دینے کے بعد عدالت میں دوسرا جواب جمع کرایا تھا۔
آج کی سماعت کے دوران ایک موقع پر، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس بات کا اشرہ دیا کہ عمران خان اپنے اس بیان کو واپس نہ لینے کی وجہ سے توہین عدالت کا جواز پیش کر رہے ہیں۔
عمران کے وکیل حامد خان نے کہا کہ جواز اور وضاحت میں فرق ہے۔ ’’میں یہاں ایک وضاحت دے رہا ہوں۔‘‘
اگر یہ الفاظ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کے لیے استعمال ہوتے تو کیا آپ یہی جواب جمع کراتے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران یہ جواز دے رہے ہیں کہ شہباز گل کو پولیس حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جسٹس من اللہ نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں کہ فیصلے ریلیوں میں ہوں گے یا عدالتوں میں؟
اپنی طرف سے عمران کے وکیل نے کہا کہ تمام ججز احترام کے مستحق ہیں۔
اس کے بعد جسٹس من اللہ نے کہا کہ ضلعی عدالتوں کے جج ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں سے زیادہ اہم ہیں۔
“اکثر اوقات، معاملہ اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا اسے سمجھا جاتا ہے،” حامد خان ے استدلال کیا، اور اعتراف کیا کہ عمران نے خاتون جج کے خلاف اپنی ڈائٹری میں “ایکشن” کا لفظ صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا وکلاء کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اس معاملے میں قصور وار تحرانے کی بجائے عدالت ان کی استدعا کو قبول کرلے اور نرم فیصلہ دے ۔