پاکستان میں اس وقت تحریک انصاف اور اس کے حمائتیوں کا سخت وقت چل رہا ہے عمران خان سمیت ان کی جماعت کے راہنماؤں پر مقدمات قائم کیے جارہے ہیں ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی چھوڑ دیں پی ٹی آئی کے علاوہ اس وقت وہ صحافی بھی زیر عتاب  ہیں  جو کھل کر بولتے ہیں مگر ان میں عمران ریاض  شہباز گل  اور جمیل فاروقی جزبات کی رو میں بہہ کر کچھ زیادہ ہی بول گئے اور انھوں نے پاکس فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف آن لائین باتیں بول دیں جس پر پاک فوج کی جانب سے شدید ری ایکشن آیا اور ان پر مقدمات قائم کرکے ان  تینوں  کو جیل میں ڈال دیا گیا ان میں سے  شہباز گل تو ابھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی ہیں البتہ عمران ریاض کو پہلے ضمانت پر رہائی مل گئی تھی اور کل جمیل فاروقی کع عدالت کی جج کی جانب سے ایک لاکھ کے مچلکوں پر رہائی ملی

 

ان کو بول انتظامیہ کی ٹیم لینے کے لیے جیل کے باہر پہنچی اور اب وہ اپنے گھر میں ہی ہیں تاہم انھوں نے ایک مختصر ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے اپنی قانونی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے وہ قید سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے

 

مگر انھوں نے اپنی اس قوم کا شکریہ ادا نہیں کیا جنھوں نے ان کے لیے ٹویٹر ٹرینڈ چلائے اور ان کی ٖحفاظت اور سلامتی اور رہائی کے لیے دعائیں مانگیں شائید عوام کا ری ایکشن ان کے لیے ایسا نہیں تھا جیسا عمران ریاض خان کے لیے تھا یا جس کی توقع انہیں پی ٹی آئی  کے جوشیلے ٹائگرز اور رہنماؤں کی   جانب سے تھی