پاکستان میں بلدیہ ٹاؤن کراچی کی فیکٹری میں زندہ جل جانے ولے 250 ورکرز کا فیصلہ تو نہیں آیا نہ ہی ماڈل ٹاؤن میں خواتین سمیت 14 افراد کے قاتل پکڑے گئے اور انہیں سزاملی -عزیر بلوچ اور ارشد چھوٹو گینگ کے جیسے ڈاکو اور دہشت گرد بھی اب تک جیل میں شاہی زندگی گزار رہے ہیں شاہ رخ خان بھی رہا ہوگیا مگر آج ایک ہائی کورٹ کے فیصلے نے پاکتانیوں کو لرزہ براندام کردیا جب یہ بتا گیا کہ 1944 کے زمین کے تنازعے کا فیصلہ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے کردیا -کاش یہ فیصلہ زمین کے اسلم اور فضل کی کی زندگی میں ہوجاتا تو آج اس کے تصفیے کی نوبت نہ آتے –

 

 

لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 1944 میں ہونے والے زمین کی فروخت کے تنازعے کا فیصلہ کر دیا۔ جسٹس مزمل اختر شبیراور جسٹس محمد اقبال نے 1952 کے سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے نجیب کے وارثان کی سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی ۔ لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے اپیل دائر کرنے والے مرحوم نجیب اسلم کے وارثان پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ 2رکنی بنچ کے ججز نے یہ بھی تحریر کیا کہ آزادی کے بعد پاکستان سے جانے والے غیر مسلموں کی زمین سینٹرل گورنمنٹ پاکستان کی ملکیت تھی، خالد نے بدنیتی پر 1951 میں سول کورٹ کے دعوے میں سینٹرل گورنمنٹ پاکستان کو فریق نہیں بنایا بلکہ کے ذریعے سول کورٹ سے فیصلہ اپنے حق میں لکھوا لیا۔
عدالتی فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ 1944 میں اسلم اور فضل نے لائل پور میں 219 کنال اراضی دھناسنگھ کو فروخت کی تھی، دھنا سنگھ 1947 میں آزادی کے بعد بھارت چلا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ خالد محمود نے 1951 میں زمین فروخت پر اپنے والد فضل اور دھناسنگھ کےخلاف دعویٰ کر دیا، سول عدالت نے دھنا سنگھ کے پیش نہ ہونے پر

 

 

1952 میں زمین کا فیصلہ خالد کے حق میں دیا۔ زمین بیچنے والے دوسرے شخص اسلم کے بیٹے نجیب نے 1962 میں خالد کے نام زمین منسوخی کی درخواست دی، نجیب کی درخواست 1963 میں منظور ہونے پر خالد نے سیٹلمنٹ کمشنر کے روبرو اپیل کی، 1964 میں سٹیلمنٹ کمشنر نے نجیب کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت کا مزید کہنا ہے کہ نجیب نے اخراج کے خلاف اپیل کی جو 1966 میں منظور ہو گئی، نجیب کے بچوں نے 2018 میں سول عدالت کے 1952 کے فیصلے پر عمل کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دی، ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے یہ درخواست خارج کر دی۔