وزیر اعظم شہباز شریف نے نئے آرمی چیف کی تقرری سے قبل حکمران جماعتوں کی سینئر قیادت سے مشاورت شروع کر دی ہے، ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ قریب آ رہی ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم کو مقررہ طریقہ کار اور روایات کے مطابق تقرری کے لیے مکمل مینڈیٹ دیا ہے۔

 

 

ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو ٹیلی فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔ذرائع نے بتایا کہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملکی صورتحال اور نئے آرمی چیف کی تقرری پر تبادلہ خیال کیا۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا نے اپنا وزن وزیر اعظم شہباز کے پیچھے ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نئے آرمی چیف کی تقرری کریں۔ذرائع نے بتایا کہ حکمران اتحاد کے رہنماؤں کی اکثریت نے آرمی چیف کی تقرری کو وزیر اعظم کا انتظامی اور صوابدیدی اختیار قرار دیا۔پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ان کی خواہش کے مطابق نئے آرمی چیف کی تقرری کا مکمل اختیار دیا۔