پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم جنھوں نے پاکستان کو کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے فقید المثال تحفے دیے اور جن کی نہ آج تک کوئی ویڈیو ٹیپ آسکی اور نہ ہی کسی چینل نے انہیں کرپٹ کہا اور نہ ہی انھوں نے اپنی کوئی مل یا فیکٹری لگائی اس بات سے سے تو کسی کو اختلاف نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہیے

لیکن ان سے یہ سوال تو پوچھنا بنتا ہے کہ خان صاحب غریبوں نے آپ کو اپنے زیور بیچ کر پیسے دیے امیروں نے ڈالروں سے آپ کو تولا مگر کیا کبھی آپ نے خود بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالا یا صرف لپ سروس یعنی زبانی جمع خرچ کو ہی ملحوظ خاطر رکھا -اور تو اور پی ٹی آئی کے سابق رکن اور ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ماہانہ گھر کے اخراجات پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین برداشت کرتے ہیں۔

وجیہہ الدین، جنہوں نے 2016 میں پی ٹی آئی سے استعفیٰ دے دیا تھا، نے انکشاف کیا کہ ترین نے ابتدائی طور پر وزیر اعظم عمران خان کے گھریلو اخراجات کے لیے 30 لاکھ روپے ماہانہ کے فنڈز دیے تھے، جسے بعد میں بڑھا کر 50 لاکھ روپے ماہانہ کر دیا گیا۔ایک نجی نیوز چینل پر ایک شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ایماندار آدمی ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے۔ “جو آدمی اپنے جوتوں کے فیتے تک نہیں دیتا، آپ اسے ایماندار کیسے کہہ سکتے ہیں؟” وجیہہ الدین نے سوال کیا۔

وجیہ الدین صاحب ہمارے لیے قابل عزت تو ہیں مگر جب ان کو وزارت عظمیٰ کا کینڈیڈیٹ بنایا گیا تھا تب تو انھوں نے خان صاحب کے حوالے سے ایسا کوئی گلہ نہیں کیا -یہ مطلب نکل جانے کے بعد والی خامی کس عینک سے نظر آتی ہے غریب آدمی کو اس چشمے کی زیارت ہی کروادیں کیونکہ خردنے کے تو اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اب ان کے بیانات کے بعد منصور علی خان اور دیگر لفافہ ٖصحافیوں کو ایک بار پھر عمران خان پر طنز کے تیر برسانے کا ایک نادر موقع ہاتھ آگیا ہے اور اب وہ کئی دنوں تک اس پر پروگرام کرکے اپنی بھڑاس نکالتے رہیں گے