عمراں خان نے اربوں کے فنڈز غریبوں اور امیروں سے تو لیے : کیا کبھی ایک روپیہ خود بھی شوکت خانم کو دیا ؟

Mashkoor Hussnain
3 Min Read

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم جنھوں نے پاکستان کو کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے فقید المثال تحفے دیے اور جن کی نہ آج تک کوئی ویڈیو ٹیپ آسکی اور نہ ہی کسی چینل نے انہیں کرپٹ کہا اور نہ ہی انھوں نے اپنی کوئی مل یا فیکٹری لگائی اس بات سے سے تو کسی کو اختلاف نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہیے

لیکن ان سے یہ سوال تو پوچھنا بنتا ہے کہ خان صاحب غریبوں نے آپ کو اپنے زیور بیچ کر پیسے دیے امیروں نے ڈالروں سے آپ کو تولا مگر کیا کبھی آپ نے خود بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالا یا صرف لپ سروس یعنی زبانی جمع خرچ کو ہی ملحوظ خاطر رکھا -اور تو اور پی ٹی آئی کے سابق رکن اور ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ماہانہ گھر کے اخراجات پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین برداشت کرتے ہیں۔

وجیہہ الدین، جنہوں نے 2016 میں پی ٹی آئی سے استعفیٰ دے دیا تھا، نے انکشاف کیا کہ ترین نے ابتدائی طور پر وزیر اعظم عمران خان کے گھریلو اخراجات کے لیے 30 لاکھ روپے ماہانہ کے فنڈز دیے تھے، جسے بعد میں بڑھا کر 50 لاکھ روپے ماہانہ کر دیا گیا۔ایک نجی نیوز چینل پر ایک شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ایماندار آدمی ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے۔ “جو آدمی اپنے جوتوں کے فیتے تک نہیں دیتا، آپ اسے ایماندار کیسے کہہ سکتے ہیں؟” وجیہہ الدین نے سوال کیا۔

وجیہ الدین صاحب ہمارے لیے قابل عزت تو ہیں مگر جب ان کو وزارت عظمیٰ کا کینڈیڈیٹ بنایا گیا تھا تب تو انھوں نے خان صاحب کے حوالے سے ایسا کوئی گلہ نہیں کیا -یہ مطلب نکل جانے کے بعد والی خامی کس عینک سے نظر آتی ہے غریب آدمی کو اس چشمے کی زیارت ہی کروادیں کیونکہ خردنے کے تو اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اب ان کے بیانات کے بعد منصور علی خان اور دیگر لفافہ ٖصحافیوں کو ایک بار پھر عمران خان پر طنز کے تیر برسانے کا ایک نادر موقع ہاتھ آگیا ہے اور اب وہ کئی دنوں تک اس پر پروگرام کرکے اپنی بھڑاس نکالتے رہیں گے

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *