علامہ راجہ ناصر عباس کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی

Mashkoor Hussnain
3 Min Read

�مجلس وحدت المسلمین کے قائد علامہ راجہ ناصر عباس عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنا چاہتے تھے اس کے لیے انھوں نے ایک عدالت میں درخواست بھی دی مگر ان کی کپتان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تو انھوں نےبڑی عدالت کا دروازہ کھٹکھتا دیا -عدالت نے ان کی فریاد سنی اور ان کے حق میں فیصلہ دے دیا – اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو علامہ راجہ ناصر عباس کی بانی تحریک انصاف سے ملاقات کے حکم پر عملدرآمد کا کہہ دیا۔سائفر کیس کی سماعت کرنیوالے جج ابولاحسنات محمد ذوالقرنین نے جیل رولز کے مطابق ملاقات کی اجازت دی تھی۔ سائفر عدالت کے جج کے حکم کے باوجود علامہ راجہ ناصر عباس کی ملاقات بانی تحریک انصاف سے نہیں کرائی گئی ۔
بانی تحریک انصاف سے ملاقات نہ کرائے جانے پر مجلس وحدت المسلمین کے قائد نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے علامہ راجہ ناصر عباس کی درخواست پر سماعت کی۔ علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے ایڈووکیٹ ہادی علی پیش ہوئے۔

درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ پاکستان پریزن رولز کے رول 265 کے تحت سیاسی مقدمات میں قید رہنما سے دیگر رہنما ملاقات کرسکتے ہیں ۔عدالت نے ابوالحسن حسنات کا آرڈر دیکھ کر سماعت نبٹا دی -اس کے بعد راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے بھی گفتگو کی – علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ آنے والے الیکشنز میں عوام امریکہ نواز سیاسی پارٹیوں کو مسترد کریں گے، الیکشنز کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی امریکی و برطانوی سفارت کاروں کا متحرک ہونا اور ملکی جماعتوں کے رہنماں سے ملاقاتیں کرنا پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا، ، موجودہ سیاسی پنڈت اپنے کالے کرتوتوں کی وجہ سے عوام کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتے، پاکستانی عوام کی اکثریت ایسا لیڈر چاہتے ہیں جس کا ماضی بے داغ ہو، آزاد خارجہ و داخلہ پالیسی پر گامزن ہو، آئین وقانون کی بالادستی اور ملکی مفادات اس کی اولین ترجیح ہوں، ملک کی اصل معاشی تباہی ان افراد کے دور حکومت میں ہوئی جنہوں نے دوسرے ممالک سے تیل درآمد کر کے بجلی بنانے والے مہنگے ترین نجی بجلی گھر آئی پی پیز لگوائے۔قوی امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف کو اگر بلے کا نشان واپس نہ ملا تو وہ الیکشن کے بعد مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ اتحاد کریں گے-

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *