لوگوں نے ملک اتنا بگاڑ دیا کہ دوبارہ پٹڑی پر ڈالنا جان جوکھوں کاکام ہوگا نواز شریف

Mashkoor Hussnain
3 Min Read

آج مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ 2013کے بعد آج آپ کے پاس آیا ہوں -انھوں نے ایک بار پھر اپنی حکومت ختم کرنے کا گلہ کیا ،موٹرویز بنانے کی بات کی اور کپتان کی حکومت پر طنز کے نشتر برسائے –
لوگوں سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ جس کی 10سال خیبرپختونخوا میں حکومت رہی انھو ں نے یہاں کیا بنایا ہے؟کیا نیا خیبرپختونخوا یا نیا پاکستان بنایا گیا کوئی تبدیلی آئی؟یہاں پر کسی نے کچھ بنایا ہے تو وہ میں نے بنایا ہے، جن لوگوں نے بگاڑنا تھا وہ بگاڑ کر چلے گئے، پاکستان کو دوبارہ پٹڑی پر ڈالنا جان جوکھوں کاکام ہوگا۔

میاں نوازشریف نے کہاکہ 2013میں انتخابی جلسے میں مانسہرہ آیا تھا،ان لوگوں نے آپ سے کتنا دور کردیا تھا،کبھی جیل میں ، کبھی لندن، آج 10سال بعد آپ کے درمیان ہوں،آج یہاں وزیراعظم بننے نہیں الیکشن لڑنے آ یا ہوں،آپ مجھے ووٹ دیں گے یا نہیں؟

نواز شریف نے کہا کہ اگر 5جج مجھے نہ ہٹاتے تو مانسہرہ میں خوبصورت ایئرپورٹ اور میٹرو بس ہوتی۔ گزشتہ حکومت نے موٹروے کو سکھر سے آگے نہیں بڑھایا،ہماری حکومت کو مدت پوری کرنے دی گئی ہوتی تو اگلی حکومت بھی ہماری ہوتی،لوگوں کو روزگار دیاسستی گیس فراہم کی،ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا اور سستی بجلی فراہم کی۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے بگاڑنا تھا وہ بگاڑ کر چلے گئے، پاکستان کو دوبارہ پٹڑی پر ڈالنا جان جوکھوں کاکام ہوگا۔


ان کاکہناتھا کہ بہت عمدہ پاکستان چھوڑ کر گیا تھا،ہم نے ڈالر کو 104روپے پر باندھ رکھا تھا آج کنٹرول نہیں ہو رہا،آج ہم دنیا میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں،ہمارے دور میں مہنگائی نہیں تھی ان ظالموں نے پاکستان کا ستیاناس کردیا۔میاں نواز شریف نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان ہمارے بہت اچھے ساتھی ہیں،خیبرپختونخوا والوں آپ نے اس جھوٹے شخص کو ووٹ دیاتھا،خیبرپختونخوا والوں آپ بھی اس جھوٹے شخص کے جھانسے میں آ گئے،اب خیبرپختونخوا کو سنوارنے کا وقت آگیا ہے ،ملک کی دوبارہ تعمیر کرنا ہوگی،پاکستان کو دوبارہ پٹڑی پرلانا آسان کام نہیں۔یاد رہے کہ نواز شریف لاہور کے حلقے 10ن اے 130 کے ساتھ ساتھ کے پی کے علاقے مانسہرہ سے بھی قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں -کسی دور میں یہ علاقہ نون لیگ کا گڑھ کہلاتا تھا مگر اب اس میں پی تی کا بھی ایک بڑا ووٹ بینک موجود ہے جس کے سبب یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں 8 فروری کو ایک کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے –

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *