اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کا تحریری حکمنامہ جاری

Mashkoor Hussnain
2 Min Read

سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے بعد آج اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی تحریک انصاف کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا اس وقت آیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج گل حسن اورنگزیب نے سائفر ٹرائل کی کاروائی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے فوری روکنے کا حکم جاری کردیا –
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا ، جس کے مطابق سپریم کورٹ چار ہفتے میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم کالعدم قرار دے چکی ہے،چار ہفتے میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم کالعدم ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہی ہے ، اس لئے ٹرائل کی کاروائی 11 جنوری تک روکنے کا حکم دیا جاتا ہے ، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 21 دسمبر تک ان کیمرہ ٹرائل میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گیے، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 13 میں سے 4 گواہان دفتر خارجہ کے سکیورٹی سسٹم سے منسلک ہیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سکیورٹی سسٹم سے منسلک 4 گواہان کے بیانات خفیہ ریکارڈ کرنا ملکی سلامتی کے لیے اہم ہے، عدالت سمجھتی ہے کہ بقیہ 9 گواہان کے ان کیمرہ بیانات قانون کے مطابق نہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے،اٹارنی جنرل کے مطابق 21 دسمبر کے بعد اوپن ٹرائل میں 12 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے۔

عدالت نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم کی وجوہات بھی جاری کی ، جس کے مطابق ‏ 14 دسمبر کو ٹرائل کورٹ نے سیکشن 14 کے تحت ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دیا۔پھر 23 دسمبر کے آرڈر میں ٹرائل کورٹ نے نہ اس پر نظرثانی کی نہ ہی 14 دسمبر کا آرڈر واپس لیا ، لیکن کچھ لوگوں کو ٹرائل کی کاروائی کی دوران بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *