آئے دن وزیراعظم بدلنے، جیل اور ملک بدری سے ملک کیسے چلے گا ؛نواز شریف

Mashkoor Hussnain
3 Min Read

مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے آج سیالکوٹ میں عوام کے ساتھ دن گزارا مگر ایک بار پھر انھوں نے وہی گلے شکوے جاری رکھے جو ان کے ساتھ ماضی میں ہوا انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آنے والے دور میں وہ کیا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں -انھوں نے ایک بار پھر اسٹیبشمنٹ سے ہی گلے کیے جن کے ایماء پر ان کو اقتدار سے الگ کرکے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا اور پھر 2018 کے عام انتخابات میں انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ملی تھی –
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئے دن وزیراعظم بدلنے، جیل اور ملک بدری سے ملک کیسے چلے گا ، ہماری حکومت ختم نہ کی جاتی تو آج پاکستان مضبوط ملک ہوتا، ججوں کو کیا ضرورت تھی سازش کا حصہ بن کر ملک پر کلہاڑا چلانے کی؟سیالکوٹ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا 2017 میں ن لیگ کی اچھی خاصی چلتی ہوئی حکومت کو ختم کیا گیا، اس وقت پاکستان کی معاشی صورتحال ہمسایہ ممالک سے اچھی تھی، ملک خوشحال تھا، روپیہ مضبوط تھا اور مہنگائی نام کی کوئی چیز نہیں تھی �، لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، سی پیک پر کام تیزی سے جاری تھا اور ملک ترقی کر رہا تھا مگر اس وقت میرے اور میری جماعت کے خلاف سازش کرکے حکومت ختم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ختم نہ کی جاتی تو آج پاکستان مضبوط ملک ہوتا، انھوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کو کیا ضرورت تھی سازش کا حصہ بن کر ملک پر کلہاڑا چلانے کی؟ الیکشن میں ہیرا پھیری کیوں کی؟ آر ٹی ایس کیوں بند کیا؟ انھوں نے عمران خان کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی مورود الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایسے بندے کو لانے والے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا وہ خود ہے، نواز شریف کا کہنا تھا بہت مشکل وقت دیکھا ہے،اس کے باوجود میں اپنی قوم کے ساتھ نبھارہا ہوں، جتنا عرصہ اقتدار میں رہا اس سے زیادہ عرصہ جیلوں، ملک بدری اور مقدمے بھگتنے میں گزرا لیکن میں نے کبھی ہمت نہیں ہاری، 2017 سے آج تک ہمارے خلاف سزاؤں کا سلسلہ چلتا رہا وہ کچھ دن پہلے ختم ہوا۔نواز شریف کی گفتگو بتارہی ہے کہ انہیں الیکشن میں مسلم لیگ کی جیت مشکل نظر آرہی ہے کیونکہ اس وقت لوگ کچھ اور ہی کرنے کے موڈ میں نظر آتے ہیں لیکن اس کا پتہ تو 8 فروری کو ہی چلے گا جب بیلیٹ باکسز سے ووٹ باہر آئیں گے اور لوگوں کی رائے سامنے آئے گی –

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *