پاکستان میں اپنا کوئی بھی کام کروانا ہو اس کے لیے سڑکوں پر نکلنا عوام کی مجبوری بن گیا ہے -حکومتیں اس وقت تک عام آدمی کی بات نہیں مانتیں جب تک وہ احتجاجی بینر اٹھائے میڈیا کے سامنے نہیں آتے -ایسا ہی اب ان تاجروں کے ساتھ ہوا جن کے کنٹینرز کئی ہفتوں سے کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے تھے تاجروں کا کہنا تھا کہ کلیئرنس میں تاخیر اور ایل سیز نہ کھلنے سے بھاری ڈیمرجز عائد ہورہے ہیں جس میں ان کا کوئی قصور بھی نہیں ہے ، تاجروں نے پورٹ حکام اور وفاقی وزیر سے ڈیمرج اور پورٹ چارجز معطل کرنے کا مطالبہ کردیا۔ریلی کے بعد ٹمبر ٹریڈرز نے نجی بینک کی برانچ میں ایل سیز کے حوالے سے اپنے کاغذات کی واپسی کے لئے دھرنا بھی دیا۔- وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ فیصل سبزواری نے تاجر برادری کی احتجاج کے بعد بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز اور درآمدی سامان پر پورٹ کے جرمانے معاف کرنے کا اعلان کردیا۔

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ فیصل سبزواری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کی وجہ سے کاروباری طبقہ کو درپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے وزارت بحری امور نے بندرگاہوں کو ملنے والے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نجی ٹرمینلز سے بھی جرمانے خاطر خواہ کم کرانے کی کوشش کی جائیگی۔