وہ پاکستانی جو پی ڈی ایم کو مسیحا سمجھ کر عمران خان کی حکومت پر زور و شور سے تنقید کررتے تھے اور عمران خان کو سرعام میڈیا پر اور بازاروں میں گالیاں دیتے تھے اور “میاں صاحب دے نعرے وجن گے “کے گیت گاتے تھے وہ سب اب بہت پریشان ہیں کیونکہ اب ان کا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا بھی ناممکن ہوگیا ہے یہی وجہ ہے کہ اب عوام ایک بار پھر کپتان کی جانب دیکھ رہی ہے کیونکہ حکومت کے پاس تمام تر تجربے کے باوجود اس مہنگائی کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اسی لیے وہ بار بار عوام مہنگائی کرکے ملکی نظام چلارہے ہیں اور اب ایک بار پھر بتایا جارہا ہے کہ ملک میں بجلی اور گیس کی قیمتیں پھر بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے -اپریل 2021 تک بجلی کا جو بل 2000 آتا تھا وہ پہلےہی 5000 سے اوپر چلا گیا ہے –

 

حکومت نے مہنگائی میں پسی عوام پر ایک اور مہنگائی بم گرانے کی تیاری کر لی ہے، نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے گیس اور بجلی کی قیمتیں یکم فروری سے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے ، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے پر حتمی اجلاس آج بلا لیا ہے ۔نجی ٹی وی چینل “ڈان نیوز”کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی آج حتمی منظوری دیں گے ، رپور ٹ کے مطابق وزیر اعظم نے گزشتہ روز لاہور سے ہی شام کو 4گھنٹے کی ایک میٹنگ اٹینڈ کی تھی اور آج شام 5بجے پھر سے انہوں نے معاشی ٹیم کو بلا لیا ہے

‌‌میاں شہباز شریف

آن لائن ہی لاہور سے اس میٹنگ کو ہیڈ کریں گے ۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کو گزشتہ روز ہی بتا دیا گیا تھا کہ بجلی اور گیس مہنگی کرنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے ، بجلی اور گیس مہنگی کرنے کے سے متعلق ڈرافٹ تیار کر لیے گئے ہیں ،پارلیمنٹ کی بجائے یہ آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے ، واضح رہے کہ نیپراساڑھے 4 روپے اضافے کا نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری کر چکا ہے ، جبکہ سینیٹ اجلاس کے ختم ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے ، جس کے فوراً بعد ہی گیس اور بجلی مہنگی کرنے کا حکم جاری کر دیا جائے گا ۔