پرویز الہٰی نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ عمران خان نے پہلے انہیں اور پھر مونس الہی کو پارٹی صدر بننے کی آفر کی ہے اس کے ساتھ ساتھ کپتان نے پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے مگر اس کا فیصلہ پارٹی ممبران کے ساتھ ساتھ اپنے حلقے کے ارکان کی مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا

 

 

انہوں نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کی پیشکش پرابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔(ق )لیگ کے تمام 10 ارکان پنجاب اسمبلی اور دیگر عہدیدار اپنے حلقوں میں جاکر مشاورت کرکے جواب دیں گے۔پرویز الہٰی نے چوہدری شجاعت گروپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں نوٹس دینے والوں کو پہلے ہی تکلیف ہوگئی ہے لیکن انہیں موقع نہیں ملے گا۔مگر جب تک قومی اسمبلی سے شہبااز شریف کے اعتماد کا ووٹ لینے کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ق لیگ اس بارے میں فیصلہ نہیں کرے گی کیونکہ پارٹی ضم کرنے کے فیصلے پر ق لیگ کے چوہدری شجاعت اس معاملے پر مسائل پیدا کرسکتے ہیں –