وفاقی ھکومت نے عمران خان کے توشہ خانے سے چیزیں لے کر بیچنے کا شور مچایا تو تحریک انصاف بھی میدان میں آگئی اور عدالت سے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر ابتک جتنے تحائف جس حکمران نے لیے کتنے کے لیے کیا استعمال کیا یہ بھی پوچھیں اس پر عدالت نے بھی ان کی بجائز بات مان لی مگر پھر وفاقی حکومت اس سے روگردانی کرنے لگی اور اب عدالت نے ایک بار پھر سختی سے حکم دیا کہ توشہ خانے کی تفصیلات عدالت میں ایک ماہ میں جمع کروائیں -آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات سے متعلق کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، 3 صفحات پر مشتمل یہ حکم نامہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے جاری کیا۔

 

 

 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق حکم نامے میں کہاگیاہے کہ کابینہ ڈویژن نے 5 ماہ گزرنے کے باوجود توشہ خانہ کی تفصیلات نہیں دیں ،معلومات فراہم کرنی ہیں یا نہیں؟ عدالت کا یہ سوال بڑا معنی خیز ہے کیونکہ عدالت اب سابقہ حکومتوں کو معاف کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آرہی -عدالت نے حکومت سے ایک ماہ میں جواب طلب کرلیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کابینہ ڈویژن سے توشہ خانہ تحائف کی رپورٹ بھی ایک ماہ میں طلب کرلی، عدالت نے کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کیا ۔