پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کی متنازعہ ٹویٹ معاملے پر 37 روز بعد ضمانت منظور ہوگئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹوئٹس کے کیس میں پی ٹی آئی سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے اعظم سواتی کی درخواست ضمانت منظور کرلی، پی ٹی آئی سینیٹر کی ضمانت2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی۔نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے کہا کہ ایف آئی اے اس کیس میں دلائل دے ۔اعظم سواتی کے بیٹے عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور استدعا کرتے ہوئے میرے والد نے جیل سے خط لکھا ہے کیس کسی اور بنچ کو بھیج دیں ۔اعظم سواتی نے نوبر کے مہینے میں فوج مخالف ٹویٹ کیے تھے

 

 

اور راولپنڈی جلسے میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی اس کے علاوہ انھوں نے پریس کانفرنس میں بھی ان جرنیلوں کا تزکرہ کیا تھا جو ان کی گرفتاری ،تشدد اور بےلباس کرنے میں شامل تھےانھوں نے اسلام اباد ہائی کورٹ کے جسٹس کے رویے پرایک خط بھی لکھ دیا تھا – ایف ائی اے نے بھی عدالت سے اعظم سواتی کی درخواست ضمانت منظور کرنے نہ کی درخواست کی عدالت نے اعظم سواتی کے وکیل سے استفسار کیا جرم دوبارہ ہونے کا بتا دیں ، ایف آئی اے نے کہاکہ اعظم سواتی نے ٹوئٹ کا انکار نہیں کیا۔عدالت نے اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔تاہم بابر اعوان کے دلائل کی روشنی میں آج عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض اعظم سواتی کی درخواست ضمانت منظور کرلی –