مسلم لیگ نون کے رہنما ؤں کو پاکستان کے بعد اب دیارغیر میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ایک روز قبل مریم اورنگزیب کو پی ٹی آئی کارکنان نے ایک کافی شاپ میں گھیر لیا تھا اور ان کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی تھی اور اب بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کے قریبی ساتھی کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا ہے – مبینہ طور پر بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کے سیکرٹری راشد نصراللہ پر لندن میں آفس جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے حملہ کیا اس حملے میں ، سابق وزیر اعظم کے سیکرٹری حملے میں محفوظ رہے مگر اس واقعے کی کوئی فوٹج منظر عام پر نہیں آئے جس پر ایک بار پھر تحریک انساف ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگائے گی اس لیے نصراللہ راشد کو چاہیے کہ فوری طور سے اس واقعے کی فوٹج میڈیا پر اپ لوڈ کرکے اس بات کا ثبوت دے کہ واقعی اس پر حملہ ہوا ہے ۔

 

پاکستان مسلم لیگ (ن )کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سیکرٹری راشد نصراللہ پر یہ حملہ لندن کے علاقے الفرڈ کے مقام پر ہوا جب 3 لوگوں نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا ، پولیس کو درج کرائی گئی شکایت میں راشد نصراللہ کا کہنا تھا کہ 3حملہ آور چاقو اور خنجروں سے لیس تھے ،حملہ آوروں نے مجھے نواز شریف سے دور رہنے اور ساتھ چھوڑنے کا کہتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر میں ایسا نہ کیا تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے ۔راشد نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملہ آور گالم گلوچ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے ، راشد نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت نوازشریف سے دور نہیں کر سکتی ، ہم ان اوچھے ہتکھنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہم مرتے دم تک میاں صاحب کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔