حیدر آباد میں سیلاب سے متاثرین افراد کے لیے جو اشاء درکار ہوتی ہیں دکانداروں میں سے کچھ نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اشیاء مہنگی کردیں جس کی وجہ سے مصیبت میں پھنسے ان لوگوں کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگیا کیونکہ یہ اشیاء وہ افراد ان کو خرید کر دے رہے تھے جو ان لوگوں کی مدد کے لیے آگے بڑھے تھے مگر ان بے شرموں نے ان امدادی کاموں میں مصروف افراد کا بھی حیا نہ کیا اور چیزوں کے نرخ بڑھا دیے جس پر ان کے خلاف تھانے میں شکایت درج کروائی گئی

سیلاب متاثرین کی ضرورت میں کام آنے والے امدادی سامان خیمے، دریاں اور دیگر سامان چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرنے والے 5 دکانداروں کو گرفتارکر کے تین گودام سیل کردیے گئے تاہم  بعد ازاں حیدر آباد چیمبر آف کامرس نے مداخلت کر کے دکانداروں سے 12 ہزار روپے فی خیمہ کے حساب سے تمام خیمے خرید لیے۔پولیس کی جانب سے گرفتار دکانداروں کو ذاتی ضمانت پر  رہا کردیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ اب پولیس کیس نہيں بنتا، معاملہ اسسٹنٹ کمشنر کو بجھوا دیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کاروائی کا استحقاق اسسٹنٹ کمشنر کے پاس ہے اس لیے صرف وہ  ہی کارروائی کرسکتے ہیں۔