پاکستان کے چئیرمین عمران خان اس وقت سے سخت غصے،صدمے اور تکلیف میں ہیں جب سے ان کے علم میں آیا ہے کہ موجودہ حکومت جو اخلاقیات کا درس ہر وقت پوری قوم کو دیتی ہے اور عمرن خان کے لفظی حملوں کو بھی گناہ کبیرہ کی طرح سمجھتی ہے انھوں نے شہباز گل کے معاملے میں تمام حدیں پار کرلی ہیں اور ان پر تشدد کے لیے وہ حربے استعمال کیے جو شرعئی لحاظ سے بھی جائز نہیں اور جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا

سابق وزیر اعظم عمران خان نےایک ٹی وی انٹرویو کے دوران افسوسناک دعویٰ کیا ہے کہ شہباز گل کو ننگا کر کے مارا گیا۔ نجی نیوز چینل کے پروگرام میں انہوں نے بتا یا کہ ہمارا وکیل مل کر آیا تو اس نے بتا یا کہ اسے ننگا کر کے مارا گیا،مجھے یہ سن کر اتنی تکلیف ہوئی کہ یہ کس طرح کے حیوان ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز گل ، مولانا فضل الرحمان ،مریم نواز ، ایاز صادق اور نواز شریف کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں پتہ چل جائے گا کس نے کیا کہا،ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی  نہیں کی گئی ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے جو آے آر وائی پر بیان دیا وہ بالکل غلط تھا ایسی بات کسی طور قابل ستائش نہیں جس میں فوج کے حوالے سے نازیبا گفتگو کی جائے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسانیت کو شرمادینے والا طریقہ کار اختیار کیا جایے