اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) نے کہا ہے کہ حب ندی کا پل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کی وجہ سے منہدم ہو گیا ہے اور حب بائی پاس کو متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

این ایچ اے کے ترجمان کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے درمیان زمینی رابطہ نہیں منقطع کیا گیا ہے کیونکہ حب بائی پاس کو منہدم کیے گئے حب فلائی اوور کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

Questions arise over Hub River Bridge stability
Image Source: The Express Tribune

انہوں نے کہا کہ حب بائی پاس 11 کلومیٹر طویل ہے، اور بیروت سے قومی شاہراہ تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے حب فلائی اوور کی تعمیر نو کے حوالے سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

شدید بارشوں کے باعث حب ڈیم کے سپل ویز سے پانی کا غیر معمولی اخراج ہو رہا ہے جس کی وجہ سے مقامی حکومت نے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔