دنیا بھر میں موجود افغان خواتین کی طالبان کی پالیسیوں پر تنقید

امریکہ 20 سال اپنا پورا زور لگا نے کے بعد بالآخر منہ کی کھا کر واپس لوٹ گیا ان کے جاتے ہی طالبان نے پوری قوت کے ساتھ افغانستان کی حکومت کو چند دنوں میں شلست دے دی اور طالبان کابل ،قندھار اور سب سے آکر میں پنج شیر پر قابضہوگئے افغان حکمران جہازوں کے ذریعے فرار ہوگئے اور اس طرح طالبان نے ایک بار پھر اسلامی حکومت کے نفاذ کا اعلان کردیا

IMAGE SOURCE: Hamari Web

مگر حیران کن طور پر انھوں نے اپنی ماضی کی غلطیون سے کافی سبق سیکھا ٹی ی چینلز پر آکر انگریز خواتین کو انٹرویو دیے ،لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت بھی دے دی نگر اس کے ساتھ یہ شرط بھی عائید کردی کہ حجاب کے بغیر کوئی بالغ بچی سکول یا کالج نہیں جائے گی جو یقینا شرعئی لحاط سے اچھا فیصلہ تھا

مگر دنیا بھر میں رہنے والی افغانی عوام کو ان کی یہ بات بالکل پسند نہیں آئی اور انہوں نے اپنے روایتی لباس پہن کر اپنی اپنی تصاویر شئر کرنا شروع کردیں کہ افغان خواتین کو آزادی دی جاسکے ان کو انٹر نیٹ پر بھی اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی اجازت دی جائے

مگر افغانستان میں موجود خواتین نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے خود کو برقع میں ملبوس کرکے بڑی تعداد میں طالبان کی پیسیوں کی حمایت میں جلوس نکالا اور طالبان کی پالیسیوں کی کھل کر حمایت کی اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کی جانب سے ان ماڈرن خواتین کی تویٹر پالیسیوں کو وہ کیسے کاؤنٹر کرتے ہین کیونکہ پکچر ابھ باقی ہے طالبان کو ملک چلانے کے لیے بھت سے ممالک سے امداد بھی لینی پڑے گی اور ان کی شرائیط پر بھی عمل درامد کرنا پرے کا

Read Previous

وزیر تعلیم شفقت محمود کی تعلیمی پالیسیوں پر پاکستانی پریشان

Read Next

قطر کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پہ تحفظات کا اظہار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *