شریف اور زرداری خاندان کےتوشہ خانہ معاملے پر نیب چپ کیوں ؟انصار عباسی

Mashkoor Hussnain
3 Min Read

�جس طرح توشہ خانہ کا کیس چلاکر عمران خان اور بشری بی بی کو سزا سنائی گئی ہے اس پر دنیا بھر میں پاکستان کے عدالتی فیصلوں پر تنقید ہورہی ہے -ایک طرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے توشہ خانہ سے گاڑیاں تک لین اور آج تک واپس نہیں ک کیں تو دوسری جانب صرف ایک گھڑی پر 24 سال کی سزا سنادی گئی -اس پر نون لیگ کے قریب ترین ساتھی اور حمائتی اینکر بھی سوال اٹھانے لگے ہین کیونکہ عوام ان صحافیوں سے محفلوں میں سوال کرتے ہیں کہ آپ زرداری اور نواز شریف کے خاندان اور ساتھیوں کی توشہ خانوں سے لی گئی اشیاء اور تحائف پر زبان کیوں بند رکھتے ہیں -اس لیے مجبورا انہیں کچھ لکھنا پڑ ہی جاتا ہے –
سینئر صحافی و تجزیہ کار انصار عباسی نے توشہ خانہ ریفرنس کے حوالےسے اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں ۔ “جنگ ” میں شائع ہونیوالے بلاگ میں انصار عباسی نے لکھا کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے مٹھائیاں تو نہیں بانٹیں لیکن دونوں سیاسی جماعتیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف فیصلے کو انصاف کی عملداری کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔یاد رہے کہ انہی جج بشیر کی اسی عدالت کے سامنے نیب کا توشہ خانہ ریفرنس کا مقدمہ نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف درج ہے۔نواز ، زرداری اور گیلانی کے خلاف نیب نے توشہ خانہ ریفرنس چند سال پہلے دائر کیا تھا۔سوال یہ ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا کیس چند ماہ پہلے دائر ہوا، اُس کا نیب نے خوب پیچھا کیا اور جج بشیر کی عدالت نے فیصلہ بھی سنا دیا۔ جو توشہ خانہ کیس جج بشیر کی عدالت کے سامنے بہت پہلے دائر کیا گیا تھا وہ کہاں گم ہے؟ اُسکے حوالے سے نیب کیوں سویا ہوا ہے اور اُس کیس میں جج بشیر کیوں روزانہ کی بنیاد پر مقدمہ نہیں چلا رہے؟لگتا یہی ہے کہ آنے والے کچھ عرصے کے بعد یہ توشہ خانہ ان دونوں پارٹیوں کے لیے بڑے مسائل پیدا کرنے والا ہے –

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *