سپریم کورٹ کی جج مسرت ہلالی نے بھی الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کردیا

Mashkoor Hussnain
4 Min Read

سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ جنھوں نے پی ٹی آئی سے بلا چھین لیا تھا اب ان میں سے ایک خاتون جج مسرت ہلالی نے بھی اس بات کا اقرار کرلیا کہ الیکشن کمیشن صرف پی ٹی آئی کے ہی پیچھے پڑا ہے مگر اب ان کے ان ریمارکس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اسی 3 رکنی بینچ نے عوام کے حقوق کے بالکل برخلاف فیصلہ دیا تھا -اگرچہ اس میں پی ٹی آئی کا قصور بھی بنتا تھا مگر جو سزا دی گئی وہ پارٹی کو نہیں عوام کو ملی –

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی لیول پلیئنگ فیلڈ کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں،دوسری کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں،لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی ،اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیاگیا،آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات لڑیں گے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ الیکشن کمیشن کہتا رہا پارٹی انتخابات کرائیں لیکن نہیں کرائے گئے۔وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ عدالت کے فیصلے سے جمہوریت تباہ ہو جائے گی،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بار بار کہا تھا کہ دکھا دیں انٹراپارٹی انتخابات کا ہونا دکھا دیں،آپ کو فیصلہ پسند نہیں تو کچھ نہیں کر سکتے،لیول پلیئنگ فیلڈ پر ہم نے حکم جاری کیاتھا،عدالت حکم دے سکتی ہے حکومت نہیں بن سکتی،بیرسٹر گوہر کے معاملے پر پولیس اہلکار معطل ہو گئے،ہمارا کام انتخابات قانون کے مطابق کروانا ہے،الیکشن کا معاملہ ہم نے اٹھایا ، پی ٹی آئی کی درخواست پر 12دن میں تاریخ مقرر کی،الیکشن کمیشن کہتا رہا پارٹی انتخابات کرائیں لیکن نہیں کرائے گئے،کسی اور سیاسی جماعت پر اعتراض ہے تو درخواست لے آئیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ آپ بتا رہے تھے کہ آپ نے کسی جماعت سے اتحاد کیا ہے،لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ میں وہی تو بتا رہا ہوں کہ ہمیں اتحاد بھی نہیں کرنے دیا گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ الیکشن کمیشن فیئر نہیں ہے،الیکشن کمیشن ایک پارٹی کے پیچھے بھاگ رہا ہے،الیکشن کمیشن کو دوسری جماعتیں نظر نہیں آتیں؟کاش کہ وہ یہی بات اس روز کردیتیں جب بلے کے نشان کا فیصلہ ہورہا تھا اور بابر ایس اکبر کی پیٹیشن خارج کروانے میں اپنا کردار ادا کرتیں تو سپریم کورٹ کی ساکھ خراب نہ ہوتی –

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمارے سامنے الیکشن کا معاملہ اٹھا، ہم نے تاریخ دلوائی، کیا آپ تاریخ دلوا سکے تھے؟قانون ہم نہیں بناتے، قانون پر عمل کرواتے ہیں، آپ کو قانون پسند نہیں تو بدل دیں۔لطیف کھوسہ نے کہاکہ اے این پی کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس دیا، پی ٹی آئی کو کیوں نہیں؟چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمیں کل پتہ چلا ہے کہ اے این پی کے آئین کے مطابق ابھی وقت موجود تھا،اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کو نشان واپس لوٹایا۔لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اب ہر طرف سے انگلیاں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور اسے تاریخ کے بدترین فیصلوں میں سے ایک فیصلہ قرار دیا جارہا ہے -کیونکہ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے کروڑوں ووٹرز سے ان کا بلے کو ووٹ دینے کا حق چھین لیا گیا ہے –

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *