خون کے ٹیسٹ کا نیا طریقہ دریافت ؛ہارٹ اٹیک میں بھی مؤثر ہوگا

Mashkoor Hussnain
2 Min Read

دنیا میں سائنس کی ترقی کی بدولت انسانی زندگیاں بچانی آسان تر ہورہی ہین ایسے جدید آلات بنالیے گئے ہین جو مرتے ہوئے انسانوں کو بچالیتے ہیں انسان کو کومے سے نکالتے ہیں آج اس میں ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے -ریسرچرز نے خون کے ٹیسٹ کا ایک نیا طریقہ دریافت کرلیا جس سے دل کے دورے اور اس سے ہونے والی اموات کے خدشات کم ہونے کے ساتھ ساتھ دل کے دوبارہ دورے کا خطرہ بھی کم ہوجائے گا۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر نے اپنی اس کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے خوشی اور فخر کے ساتھ بتایا ک ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو لوگوں کے معائنے کے لیے بالکل درست طریقے کی ضرورت تھی جو سامنے آگیا ہے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والے تجربات کے دوران یہ دیکھا گیا کہ ایک نئے ٹیسٹ سے دل کو پہنچنے والے نقصان کے بعد خون میں شامل ہونے والے پروٹین کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس سے5سال بعد مریض پر دل کے دوبارہ حملے کے امکانات10فیصد کم ہوسکتے ہیں۔ نیا ٹیسٹ پرانے ٹیسٹ کے مقابلے زیادہ درست ہے۔ یہ طریقہ کار ان مریضوں کو فائدہ پہنچائے گا جن کی دل کی شریانیں یا بافتیں زخمی ہوچکی ہیں۔

ٹیسٹ کے مؤثر ہونے کا پتہ چلانے کے لیے ریسرچرز نے پورے سکاٹ لینڈ کے اے اور ای ڈیپارٹمنٹ سے ٹیسٹ کرانے والے کم و بیش50ہزار مریضوں کے ٹیسٹ کے نتائج کا جائزہ لیا ۔ ایڈنبرا یونیورسٹی کے کارڈیالوجی کے کلینکل لیکچرار ڈاکٹر کین لی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ڈاکٹر کم حساس ٹروپین ٹیسٹ کے نتائج سے غلط طور پر مطمئن ہوجاتے تھے۔ نیا انتہائی حساس ٹیسٹ وہ چیز ہے جس کی ڈاکٹروں کو ضرورت تھی۔ اس سے مریض کی حالت کا تفصیل اور گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد علاج کرنے کی سہولت ہوگی۔اور جب ڈاکٹر مرض کی درست تشخیص کرلیں گے تو ان کا علاج بھی درست طور پر ہوسکے گا –

Share This Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *