ح

آج ایک بار پھر توشہ خانہ کیس کی اہم سماعت ہوئی – اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کل صبح 11بجے سنایا جائے گا،عدالتی عملے نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کو آگاہ کر دیا۔چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ دفتر جو بھی ضروری ہو کرے، الیکشن کمیشن نے کسی فرد کو تو ہدایت جاری نہیں کی، سیکرٹری الیکشن کمیشن کو تو ہدایت جاری نہیں کی، وہ کیوں کمپلین کرے؟یہاں لایکشن کمیشن نے سیکرٹری کی بجائے آفس کو یہ ہدایت دی ہے۔

 

 

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے کوشش کی کی عمران خان کو کسی قسم کی رعایت نہ ملے مگر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس جہانگیر طارق نے ان کے وکیل کی بات پر برہمی کا اظہار کیا کیونکہ اس سے پہلے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر بھی عوام کی جانب سے شدید ردعمل آیا تھا -اور پی ٹی آئی کے وکلاء نے بھی شدید برہمی کا اظہار کیا تھا جس پر کمرہ عدالت میں خاصی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی -اور لطیف کھوسہ یہ کہہ کر عدالت سے نکل گئے تھے کہ آپ نے جو فیصلہ سنانا ہے سنادیں آج کے بعد ہم بھی عدالت نہیں آئیں گے اس کے بعد وکلاء کے لفٹ میں پھنسنے کا واقعہ بھی سوشل میڈیا میں سارا دن خبروں میں رہا تھا مگر آج لطیف کھوسہ اپنے وکلاء ساتھیوں کے ساتھ ایک بار پھر عدالت تو پہنچے مگر لفٹ کی بجائے انھوں نے سیڑھیوں کا راستہ اختیار کیا جس پر صحافیوں نے ان سے دلچسپ سوال بھی کیے -تاہم آج عدالت کے حالات قدرے مختلف تھے آج کسی قسم کی کوئی بد نظمی تو پیدا نہیں ہوئی مگر کیس کا فیصلہ کل پر چلا گیا جو کل 11 بجے سنایا جائے گا –