پاکستان میں عدم برداشت روز کا معمول بنتا جارہا ہے -چلڈرن ہسپتال میں بچی کی ہلاکت پر لواحقین آپے سے باہر ہو گئے، شدید غم و غصے کے شکار لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا۔جس کی ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی -ویڈیو فوٹج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند نوجوان پہلے ڈاکٹر سے بحث کرتے ہیں اور پھر حملہ کردیتے ہیں -ہسپتال انتظامیہ نے بتایاکہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں ایک سال کی بچی میڈیکل وارڈ میں داخل تھی جہاں اس کی صحت مسلسل خراب ہو رہی تھی، ڈاکٹرز کی کوشش کے باوجود بچی کی جان نہ بچ سکی اور وہ انتقال کر گئی۔

 

بچی کے انتقال پر لواحقین مشتعل ہوگئے اور انھوں نے بھی کی وفات کا ذمہ دار ڈاکٹروں کی غفلت قرار دےدیا اور اس کے بعد بچی کے ورثاء نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر و عملہ پر تشدد کیا، مشتعل لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تھپڑوں، لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ڈاکٹر کے چہرے پر چوٹیں آئیں ۔ واقعہ کے بعد ڈاکٹروں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا اور وہ بھی مشتعل ہوگئے اور انھوں نے ہسپتال میں علاج معالجہ بند کر دیا اور او پی ڈی بند کر کے فیروز پور روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا، ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث فیروز پور روڈ پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ہسپتال میں ہنگامہ آرائی کرنے والے 5 افراد کو حراست میں لے لیا –