سعودی عرب میں ایک بیٹے نے اپنی ماں کو 32 سال بعد تلاش کرلیا -خالد السنید نامی یہ بچہ اپنی ماں گے اس وقت جدا ہوگیا تھا جب اس کی عمر صرف 4 سال تھی -نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق 36سالہ سعودی نوجوان ترکی خالد سنید السنید کی عمر اس وقت محض 4سال تھی جب اس کے ماں باپ میں طلاق ہو گئی اور اسے اس کا باپ سعودی عرب لے آیا۔

 

 

ترکی خالد سنید السنید نے بتایا ہے کہ میری ماں کا تعلق مصر سے تھا مگر میرے والد مجھے اپنے ساتھ سعودی عرب لے آئے اور سعودی عرب آ کرمیری ماں کو طلاق دے دی۔ چند سال بعد میرے والد کا انتقال ہو گیا اور میں اپنی دادی کے پاس رہتا رہا۔

اس نے بتایا کہ 16 سال بعد جب دادی کا انتقال ہو گیا تو خاندان کی ایک اور بزرگ خاتون کے پاس رہنے لگا۔ 28سال کی عمر میں میری شادی ہو گئی۔ ان تمام سالوں میں سعودی عرب میں رہتے ہوئے مصر کے سفارتخانے کے ذریعے اپنی ماں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

 

 

ترکی السنید نے بتایا کہ پھر میں نے ماں کی تلاش کے لیے مصر کا سفر کیا۔ قاہرہ میں سعودی سفارتخانے گیا اور وہاں سے خوش قسمتی سے مجھے میرے والدین کے متعلق وہ فائلیں مل گئیں جن میں ان کے بارے میں معلومات درج تھیں۔ان فائلوں کی مدد سے بالآخر میں اپنی ماں کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کی ماں عبیر حنفی مصر کے شہر اسکندریہ میں رہائش پذیر تھی۔خاتون کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس عرصے میں اپنے بیٹے سے ملنے کی کوشش کرتی رہی تھی تاہم ہر بار اس کا سابق شوہر اور اس کے بعد اس کی فیملی عیبر حنفی کو اپنے بیٹے سے ملنے سے روکتے رہے۔بیٹے کی ماں سے محبت کی یہ خبر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی اور لوگوں نے اس بیٹے اور ماں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دونوں کو اس ملاپ پر مبارکباد بھی دی –