لاہور کی ایک سیشن عدالت نے ہفتہ کو صوبائی دارالحکومت کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک نجی اسکول میں کل ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا جہاں سکول کی طالبات نے اپنی ساتھی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا -جس کی ویڈیو وائرل ہوئی تو قانون حرکت میں آیا اور ان لڑکیوں کے خلاف ایف آئی آر کٹ گئی اور معاملہ عدالت پہنچ گیا -آج عدالت نے اپنے کلاس فیلو کے ساتھ بدسلوکی کے الزام میں نامزد ان چار طالبات کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لی -عدالت نے ان کی ضمانت 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے پولیس کو 30 جنوری تک گرفتار کرنے سے روک دیا ۔

متاثرہ طالبہ کے والد عمران یونس نے ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کی ساتھی منشیات کا عادی ہیں وہ یہ چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی ان کی کمپنی میں شامل ہو جائے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں میں سے ایک کے پاس ہتھ -یار بھی تھا۔ تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی کے والد نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کی سونے کی چین اور ایک لاکٹ بھی ملزمان نے اس کے گلے سے اتار لیا۔ا نہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کو دو بہنوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ پھر اسے گھسیٹ کر کینٹین میں لے گئے اور وہاں اس کی تذلیل کی۔

متاثرہ لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے بھی رابطہ کیا ہے اور سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ویڈیو میں متاثرہ لڑکی کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ویڈیو میں دو لڑکیوں کو کو اس طالبہ کا بازو مروڑتے اور گالیاں دیتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ ، جب کہ تیسری اسے تھپڑ مارتی ہے۔ جس سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی کے چہرے پر چوٹیں آئیں اور اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔