پنجاب اسمبلی کے سپیکر محمد سبطین خان نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے غیر قانونی اقدام اور بدتمیزی کے خلاف صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو خط لکھا ہے۔
خط میں اسپیکر نے گورنر کے غیر آئینی اقدامات پر روشنی ڈالی اور صدر سے درخواست کی کہ وہ انہیں جو کہ ان کا نمائندہ ہے، کو غیر قانونی اقدامات کرنے سے روکیں اور انہیں عہدے سے ہٹا دیں۔

PTI nominates Sibtain Khan as speaker Punjab Assembly

Image Source: The News International

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی سپیکر پنجاب اسمبلی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر کو خط آج لکھا جائے گا۔
صوبے میں سیاسی تناؤ ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور دن بھر صورتحال بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی نے ٹوئٹ کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچ گئے ہیں اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ پر طنز کیا ہے کہ جب وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس آ رہے ہیں تو اسے سیل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ نے منگل کو دھمکی دی تھی کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے کل صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاؤس کو سیل کردیا جائے گا۔
مونس الہی کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں سب کچھ کنٹرول میں ہے۔
دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل ق) نے الگ الگ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس بلائے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کی جانب سے بلایا گیا اجلاس وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی زیر صدارت ہوا جس میں دس ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔
ملاقات میں مسلم لیگ ق کے ارکان نے چوہدری پرویز الٰہی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں تمام ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔