تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کی ملک گیر کمیٹی نے انٹر گریڈ اور میٹرک گریڈ کی سطح پر موجودہ گریڈنگ سسٹم کو ملک بھر میں 10 نکاتی نظام کے ساتھ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ لاہور میں منعقدہ انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی) کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز مرید رحیمو نے کی۔

HEC Invites Experts to Assess the Quality of Research in Pakistan

Image Source: ProPakistani

نئے مجوزہ گریڈنگ سسٹم کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس کو 33 سے بڑھا کر 40 کر دیا گیا ہے، جبکہ طالب علم کے امتحانی ریمارکس سے “ایف” یا “فیل” کی اصطلاح ہٹا دی جائے گی اور اس کی جگہ ایک نئی اصطلاح “یو” یعنی غیر اطمینان بخش متعارف کرایا جائے.
نئے گریڈ 95-100% نمبر حاصل کرنے والے طلباء کے لیے “اے پلس ” یا “غیر معمولی” ہیں۔ 90-95% نمبروں کے لیے “اےپلس ” یا “غیر معمولی “؛ 85-90فیصد نمبروں کے لیے “اے ” یا “قابل ذکر”؛ 80-85فیصد نمبروں کے لیے “بی پلس ” یا “بہترین”؛ 75-80فیصد نمبروں کے لیے “بی پلس ” یا “بہت اچھا”؛ 70-75فیصد نمبروں کے لیے “بی” یا “اچھا”؛ 60-70فیصد نمبروں کے لیے “سی” یا “منصفانہ”؛ 50-60فیصد نمبروں کے لیے “ڈی ” یا “اطمینان بخش”؛ 40-50فیصد نمبروں کے لیے “ای” یا “کافی”۔
نئے مارکنگ سسٹم کو جلد ہی انٹر بورڈ کمیٹی آف چئیرمین میں پیش کیا جائے گا اور آئی بی سی سی کی منظوری ملنے کے بعد اسے ملک بھر میں متعارف کرایا جائے گا۔