لاہور میں عمران خان نے مصروف ترین دن گزارا اس دوران کپتان نے صوبائی دارالحکومت کے دورے کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے تفصیلی ملاقات کی ۔ دونوں رہنمائوں نے موجودہ سیاسی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور شہریوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔پنجاب حکومت کی تعریف کرتے ہوئے خان نے کہا کہ اس کا امدادی پیکج متاثرہ خاندانوں کی جلد بحالی کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے عوام کو ضروری ریلیف فراہم کرنے کے لیے فلاحی منصوبوں میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور پی ٹی آئی کے دور میں شروع کیے گئے فلاحی منصوبوں کو روک کر سابقہ ​​حکومت کی عوام سے مبینہ دشمنی پر افسوس کا اظہار کیا۔

 

 

وزیراعلیٰ نے سابق وزیراعظم کو ہیلتھ کارڈ سکیم کے تحت مزید بیماریوں کے علاج کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں کو مرحلہ وار شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا۔پی ٹی آئی رہنما کو پنجاب کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ 2022 کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے روشنی ڈالی کہ تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے سخت قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت کی روک تھام پر بھی بات چیت ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اداروں میں منشیات فروخت کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔

 

 

اس کے لیے حکومت پنجاب کم سے کم سزا دو سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید رکھنے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت اور استعمال کے لیے مالکان کے ساتھ ساتھ ملازمین بھی ذمہ دار ہوں گے اور مزید کہا کہ منشیات کے کاروبار کے خاتمے کے لیے ایک خودمختار ادارہ خصوصی فورس اور عدالتیں قائم کی جائیں گی۔