مسلم لیگ نون کے مرکزی لیڈر اور لاہور سے منتخب ہونے والے ایم این اے جو اسوقت شہباز حکومت میں ریلوے کے وزیر ہیں ، نے سیلاب کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے میڈیا سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ مال
بردار گاڑیوں کو مجبوری میں پانی میں ڈوبے ٹریک سے گزارا مگر مسافرٹرینوں کو پانی سے گزارنے کا رسک نہیں لے سکتے ہم کسی بھی حالت میں سیلاب زدہ علاقوں میں ٹریک نظر آنے تک مسافر گاڑیاں نہیں چلائیں گے ۔

 

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سیلاب سے ریلوے نظام متاثر ہوا، ٹریکس پانی میں ڈوبے ہیں جس کی وجہ سے ریلوے آپریشن معطل ہے،ریلوے آپریشن کا اس وقت تک پتہ نہیں چلے گا جب تک پانی نیچے نہیں جاتا ،
میں آج سندھ جا رہا ہوں، ریلوے تنصیبات کو جو نقصان پہنچا ہے وفاقی حکومت اس کا بھی جائزہ لے گی ۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک پارٹی اور اس کا لیڈر خود کو مہاتما سمجھتے ہیں ۔انھوں نے الزام لگایا کہ عمران خان حکومت پر مسلسل حملے کر رہے ہیں، سیلاب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جعلی تصویریں ڈالی جا رہی ہیں،انھوں ن
ے پی ٹی آئی والوں سے درخواست کی کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے عمل میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں، سیلاب سے لوگ اجڑ گئے، نقصان ہو گیا،اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کی سیاست بھی بے نقاب ہو گئی –

وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کروڑوں لوگ سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں، ان بے چاروں کا کچھ باقی نہیں بچا، اسی لیے حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیےجس قدر ہو سکے اقدامات کیے جارہےہیں، متاثرین کی امداد کے لیے حکومت ،افواج پاکستان ،رضاکار سمیت سب کردار ادا کررہے ہیں، حکومت کی ترجیح سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کےبعد ان کی بحالی ہے، سیلابی صورتحال میں روز جھگڑا کرنا، جلسہ کرنا مناسب نہیں –