پاکستان میں جب سے شہباز شریف کی حکومت آئی ہے پاکستان ایک سے ایک عزاب سے گزر رہا ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مہنگائی کا آغاز 2008 سے زیادہ شروع ہوا جب پی پی پی کی حکومت مرکز میں اور ن لیگ کی حکومت پنجاب میں بنی

عمران خان کی حکومت  آئی تو اس وقت ملک دیوالیہ کے نزدیک تھا خان کو بھی قرضے لیکر ہی ملک چلانا پڑا تو 2018 اور 2019 میں ملک میں ہر طرف مہنگائی اور مرگئے مرگئے کا شور بلیند ہوگیا تاہم خان صاحب نے کرونا کے دوران ملک کو بحران سے نکالا اور 2020 اور 2021میں حالات بہتر تو ہوئے مگر کسی کو بھی اس بات کا احساس نہیں تھا

اکیلا عمران خان چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ ہمارے ملک میں مہنگائی دعسرے ممالک سے کم ہے پٹرول کی قیمت بھی کم ہے مگر پورا پاکستان خان کی بات کو سیاسی بیان سمجھ کر تمسخر اڑاتا رہا مگر جونہی خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو گویا ملک پر مہنگائی ایک قیامت بن کر ٹوٹی چیزوں کی قیمتیں جو مہینے بعد بڑھتی تھیں اب اپریل میں ہفتے بعد اعر پھر جون جالائی مین ہوروز ہی بڑھنے لگیں

ہر ماہ بجلی اور پٹرول کے بڑھتے ریٹس نے اچھے خاصے خوشحال گھرانوں کو بھی غریب کردیا اور آج یہ خبر میڈیا میں گردش کررہی ہے کہ وہ مہنگائی جو خان کے دور میں 12 فیصد تھی وہ اب بڑھ کر 27 فیصد ہوگئی ہے اور یہ  1975 کے بعد سب سے مہنگائی کے اعتبار سے سب زیادہ برا دوار ہے