لاہور: پولیس نے جمعہ کو 25 مئی کو آزادی مارچ کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں 26 تھانوں کے سٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کے تبادلے کر دیے۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ایس ایچ اوز کو پولیس لائن تبدیل کر دیا گیا ہے اور انہیں تاحال معطل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’معطلی تب ہی ہو گی جب ان پر الزامات ثابت ہوں گے۔

حکام نے مزید سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پیز) کو ہٹانے سے انکار کیا جو 25 مئی کو ڈیوٹی پر تھے۔

جن ایس ایچ اوز کو عہدوں سے ہٹایا گیا ان میں عدنان رشید، عامر ریاض، وجیہہ الحسن، عاصم رفیق، قادر علی، محمد جمیل، جاوید اقبال، فاروق افتخار، مزمل حسین، رشید سلیم، زاہد حسین، احمد عدنان سلطان، محمد ریاض، شبیر حسین، عرفان اشرف، اسد اقبال، ندیم خالد، نثار احمد، فرقان محمود، یاسر بشیر، عبدالواحد، عامر انجم اور نصر اللہ چٹھہ  شامل ہیں۔

Punjab police come up with ISPR-like media wing - Pakistan - DAWN.COM
Image Source: Dawn

جمعرات کو، لاہور پولیس نے آزادی مارچ کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کرنے میں مبینہ طور پر ملوث اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز) کو ہٹانے کا فیصلہ کیا، جب پارٹی کی جانب سے صوبائی حکومت سے ایسے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

ابتدائی طور پر، پولیس نے ایس ایچ اوز کو ہٹانے کا عمل شروع کیا اور ڈی آئی جی آپریشنز نے نئے اسٹیشن ہاؤس افسران کے انٹرویو کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ لاہور کے ایس ایچ اوز نے تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب حکومت سے 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کے دوران پارٹی رہنماؤں کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے اور شرکاء پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عمران خان کے حکم پر قائم انسدادِ تشدد کمیٹی کا اجلاس شفقت محمود کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، راجہ بشارت اور دیگر نے شرکت کی۔