پاکستان میں دو چیزیں ہیں جو روز آنہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں ایک آبادی اور دوسرے مہنگائی -پاکستان کے وزیراعظم اپنے دعوں اور سرتوڑ کاوش کے باوجود دونوں پر قابو پانے میں ناکام نظر آئے اوریوں اپوزیشن کو ان کو ہدف تنقید بنانے کاسنہری موقع بھی میسر آگیا

اس وقت یہ عالم ہے کہ عوام غربت کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان ہیں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اس کے باوجود اشیائے صرف اورضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آٹا‘ دال‘ دودھ‘ دہی‘ سبزی‘ پھل اور پیٹرول کی قیمتوں کوتوکوئی روکنے والاہی نہیں ہے۔ دراصل ہمارے حکمرانوں کو تو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ایک غریب کیسے گزارہ کرتاہے؟۔ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ جتنی لوٹ مارمنافع خورمافیا اور بھتہ مافیا نے کی ہے عوام ان سے تو تنگ ہیں ہی مگر اس سے بڑھ کر حکمرانوں اور حکام کی مجرمانہ خاموشی عوام کے لیے زیادہ تکلیف کا سبب ہے۔ قیمتوں میں روز برروز اضافہ اب عوام کے لئے مسئلہ بن چکا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی بہت مہنگی اور غریب کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہیں‘ دووقت کی روٹی کمانا ان کے لیے مشکل بنادیا گیا ہے۔ یہ صورت حال خطرناک ہوسکتی ہے اورملک میں انتشارپھیل سکتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی روکنے کے لئے منصوبے بنائے جاتے ہیں‘ اور دہائیوں پہلے اس کی منصوبہ بندی کرلی جاتی ہے مگرہمارے ملک میں اس پر کوئی منصوبہ بندی تک نہیں کی گئی بلکہ وہ منصوبے بنائے گئے جن سے سیاست دانوں کو ووٹ مل سکیں اب اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں‘ اور بےروزگاری کے باعث جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔

گزشتہ روز وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گراتے ہوئے آئندہ پندرہ روز کے لیے پٹرول کی قیمت میں 12 روپے تین پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا۔وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہوگیا ہے اور یہ قیمتیں 28 فروری تک لاگو رہیں گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 1960 سے لیکر 2022 تک چین نے 5000 ڈیم بنائے جبکہ ہم پاکستانی صرف 2 ڈیم ہی بنا سکے اس کا نقصان یہ ہوا کہ بجلی کی کھپت بڑھ گئی اور پیداوار کم پڑ گئی جس کی وجہ سے بجلی مہنگی بھی ہوئی اور عوام کو لوڈشیڈنگ کا عزاب بھی جھیلنا پڑا بجلی کی کم پیداوار کا براہ راست اثر پاکستان کی صنعت پر پڑا اور یوں اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا

اگرچہ مہنگائی کی ایک وجہ دنیا میں ہونے والی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہے اور کرونا نے بھی دنیا بھر میں کاروبار کو بری طرح مجروح کیا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی آج مہنگائی کے ہاتھوں بے بس نظر آرہے ہیں عالمی منڈی اس وقت خام تیل کی قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل پر پہنچ چکی ہیں جس کی دوسری وجوہات کے علاوہ یوکرین کے مسئلے پر عالمی قوتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بھی قرار دیا گیا ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی موجودہ قیمتیں 2014 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچی ہیں جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات پر آ رہا ہے۔

پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح میں بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریقوں سے اضافہ ہوتا ہے۔ملک میں جنوری کے مہینے کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 12.9 فیصد تھی اور اگر مہنگائی کو جانچنے والے نظام کو دیکھا جائے تو اس میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کا حصہ تقریباً چھ فیصد کے قریب ہے۔ اسی طرح موٹر فیول کا اس میں حصہ تقریباً تین فیصد تک ہے۔

مہنگائی پر اثر کا جائزہ لیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بیرونی منڈی میں ایک بیرل میں پانچ ڈالر کا اضافہ ہو تو اس کا براہ راست اثر ملک میں 27 بنیادی پوانٹنس کی صورت میں ہوتا ہے یعنی مہنگائی کی شرح 0.27 فیصد بڑھتی ہے جو کہ براہ راست اثر ہے۔اس کے علاوہ اس کا اثر بلاواسطہ طریقے سے بھی ہوتا ہے کیونکہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور اجناس اور دوسری اشیائے خوردونوش دوسرے علاقوں تک پہنچانے کیلیے قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے جس کا بوجھ بھی صارفین ہی کو سہنا پڑتا ہے۔

آج 2022 میں بھی میڈیا پر مہنگائی پر مسلسل بحث جاری ہے۔ میرے خیال میں اس اہم مسئلے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مہنگائی یا افراط زر بنیادی طور پر ان مصنوعات کی قیمتوں کی سطح میں اضافہ ہے جن پر ایک عام صارف اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ مہنگائی یا قیمت میں اضافہ بیچنے والوں کے لیے اچھا اور صارفین کے لیے برا ہے۔وہی دکاندار جو اس وقت موجودہ حکومت کو کوس رہے ہیں اسوقت سب سے زیادہ منافع کمانے میں مصروف ہیں – ہر دکاندار اپنی مرضی کی قیمتوں پر چیزیں فروخت کررہا ہے اور مجبور عوام اس کی من مانی اور منہ بولی قیمت دینے پر مجبور ہیں مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ نقصان تنخواہ دار طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ اشیاء کی قیمتیں ہر ہفتے بڑھ رہی ہیں اور اسکی تنخواہ میں اضافہ سال بعد ہی ہونا ہے-یہی وجہ ہے کہ صرف عوام ہی سب سے زیادہ مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں

حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ عوامی ری ایکشن کا ہوسکتا ہے کیونکہ یہ عوام عمران خان کی تحریک انصاف سے بہت امیدیں لگاکر بیٹھے تھے اورخان صاحب نے ان سے مہنگائی کم کرنے اور چوروں ،ڈاکوؤں کو پٹہ ڈالنے کا وعدہ اپنے ہر خطاب میں کیا تھا اور عوام نے انہیں ووٹ بھی اسی امید پر دیا تھا کہ پاکستان کی آخری امید کپتان ہی ہے اور اگر عوام ایک بار سڑکوں پر مہنگائی اور نانصافی کے خلاف نکل آئے تو انہیں روکنا جوالامکھی کو خاموش کروانے سے کم مشکل نہیں ہوگا