102
آج ہائی کورٹ کے جج نے بھی حکومت سے وہی سوال کرلیا جو اس وقت پر پاکستانی کے دل میں ہے کہ جو شخص اہم سرکاری اور حساس اداروں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہو ہو یا لوگوں کو اس طرف جانے کے لیے کال دے اور اس کال کا ریکارڈ حساس اداروں کے پاس موجود ہو وہ ایک پریس کانفرنس کے بعد ملزم کیسے معصوم قرار دیا جاسکتا ہے – پشاور ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت درخواستوں پر ریمارکس میں کہا ہے کہ جو پریس کانفرنس کر لے، وہ آزاد، جونہیں کرتا، دوبارہ گرفتار کر لیتے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس پر انتہائی سیریس الزامات کیسے ختم ہو جاتے ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ: سابق وفاقی وزیر علی محمد خان کو رہا کرنے کا حکم#AbbTakk pic.twitter.com/WWZ5EtAGbY
— AbbTakk (@AbbTakk) June 7, 2023