114
اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی پیشی ہوئی جس میں خان صاحب نے ایک بار پھر بڑے پن کا مظاہرہ کیا انھوں نے عدالت سے کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے جج زیبا کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معافی مانگ لیتا ہوں
خان صاحب اس سے بھی آگے بڑھے اور کہاکہ وہ خود جاکر سیشن جج سے معافی مانگنے کو تیا ر ہیں انھون نے اپنی بات بھی دہرائی کہ میں نے جج کو دھمکی نہٰیں دی تھی بلکہ عدالت کے ذریعے سوال کرنے کا کہا تھا
عدالت نے بھی عمراں خان کے اس جیسچر کو سراہا اور صرف 5 منٹ کی کاروائی کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران کان کے خلاف توہین عدالت کی کاروا ئی روک دی اور ان کو 29 ستمبر تک تحریری جواب جمع کروانے کا حکم صادر فرمادیا