حکومت پاکستان نے کالعدم تنظیم کا دھرنا روکنے کے لیے کمر کس لی اسلام آباد اور لاہور میں پولیس ہائی الرٹ

یہ فیصلہ کالعدم تنظیم کی جانب سے لاہور سے اسلام آباد کی جانب

لانگ مارچ کے اعلان کے بعد کیا گیا تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے

کہ وہ اپنے نظر بند رہنما اور قائد حافظ سعد حسین رضوی کو رہا کرے۔

سینئر پولیس افسران نے ڈان کو بتایا کہ ٹی ایل پی کو دارالحکومت

میں داخل ہونے سے روکنے یا فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دینے کے لیے

اسلام آباد ایکسپریس وے سمیت مختلف سڑکوں پر لگانے کے لیے

تقریبا تین درجن کنٹینرز کا انتظام کیا گیا تھا۔

کنٹینر فیض آباد انٹر چینج پر پہنچئے گئے اور آدھی رات کو

سڑکوں پر کھڑے کر دیے گیے۔ اس کے علاوہ انٹرچینج اور

اس کے اطراف میں لیس پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ۔

دارالحکومت کے داخلی راستے ترنول ، ر وات اور بہارہ کہو پر بھی پولیس تعینات کردی گئیں ۔

افسران نے بتایا کہ لبیک کے مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے 2 ہزار سے

زائد پولیس اہلکار داخلی راستوں سمیت اہم مقامات پر تعینات کیے جا رہے ہیں۔

پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز نے جمعہ کو تعینات کئے جانے والے

دستوں کے لیے 1500 اینٹی ریوٹ گیئر کٹس جاری کیں۔

دریں اثنا ، جمعرات کو دارالحکومت کے مختلف حصوں سے تین درجن

سے زائد رہنماؤں ، کارکنوں اور کالعدم تنظیم کے فعال کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

راولپنڈی میں پولیس نے کالعدم تنظیم کے خلاف بھی کریک ڈاؤن تیز کر دیا

، اس کے 125 سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

125 کارکنوں میں سے 51 کو ضلع راولپنڈی ، 21 اٹک ، 29 کو جہلم اور 25 کو چکوال میں حراست میں لیا گیا۔

اب تک اس گروپ کے 17 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں 30 دن کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے۔

مزید برآں ، پنجاب کانسٹیبلری (پی سی) کے اہلکاروں کو بھی بلایا گیا ہے

تاکہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مقامی پولیس کی مدد کریں۔

رینجرز اور ایلیٹ فورس کے کمانڈوز کو فیض آباد میں تعینات کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ، پولیس کو پہلے ہدایت کی گئی تھی

کہ وہ ٹی ایل پی کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر ‘نظر بند ‘ کریں

تاکہ انہیں قانون کے تابع بنایا جائے لیکن بعد میں

انہیں 30 دن تک حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے کالعدم تنظیم کے 320 سے زائد کارکنوں

کی فہرستیں تیار کی ہیں ،جن میں سے 39 افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے چوتھے شیڈول میں رکھا گیا تھا۔

تاہم ، پولیس مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے سیکشن 3 کے تحت 51

افراد کو گرفتار کر سکتی ہے اور دیگر کارکنوں کی

رہائش گاہوں پر چھاپے جاری رکھ سکتی ہے۔

گیریژن سٹی کے مختلف مقامات پر پولیس تعینات کی گئی ہے

جبکہ ریزرو پولیس کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔ شہر میں

امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جمعہ کے روز رینجرز بھی تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔

لاہور میں بھی اقبال ٹاؤن سے لیکر گی پی او چوک تک پولیس

کو الرٹ رکھا گیا ہے کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند کردی گئی ہیں

تاکہ کالعدم تنظیم کے رہنا اور کارکنوں کو اسلام آباد کی جانب جانے سے روکا جاسکے

Read Previous

شاہ رخ خان کی اپنے بیٹے آریان سے جیل میں 18 منٹ کی پہلی ملاقات

Read Next

کپتان بابر اعظم نے ہندوستان کے خلاف میچ کے لیے 12 رکنی ٹیم کا اعلان کردیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *