جب پاکستان صحافیوں کو نام دیتا ہے تو پاکستان کے خلاف بات کیوں؟؟؟

پاکستان شائید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں جس جس شخص کو ہمارے وطن نے نام دیا ،عزت دی، شہرت دی انھوں نے ہی ملک کے خلاف زہر اگلا -پاکستان میں کتنی جماعتیں ایسی ہیں جو الیکشن پاکستان میں لڑتی ہیں تنخواہیں پاکستانیوں کے ٹیکس کے پپیسوں سے لیتی ہیں مگر عوام کو اکٹھا کرکے پاکستان کے خلاف ہی بولتی ہیں-

IMAGE SOURCE : Twitter

جس میں پی- ٹی- ایم سر ہرست ہے جو پر وہ کام کرنے کو تیار رہتی ہے جس سے پاکستان کا نقصان ہو یا پاکستان کی بدنامی ہو -اسی طرح ایک نام ایم کیو ایم کے سابقہ قائد کا ہے جسے اردو بولنے والے پاکستانیوں نے قائداعظم کے بعد سب سے زیادہ عزت دی ہر گھر میں اس کی تصویر لگی ہوتی تھی اور اس کی ایک آواز پر وہ اپنا کاوروبار تو کیا شہر بھی بند کردیتے تھے مگر وقت گزرنے کے بعد اس نے اپنی اصلیت دکھائی اور پاکستان کے خلاف نہ صرف خود نعرے لگوائے بلکہ عوام کو بھی اکسایا

مگر لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والے وطن کے خلاف جس نے بھی بات کی عوام نے اس سے منہ پھیر لیا اور پھر اس کی مثال نہ گھر کا نہ گھاٹ کا والی ہی رہی- پاکستان میں ایک اور اہم شعبہ صحافت کا ہے جسے پاکستان کا ایک اہم ستون کہا جاتا ہے مگر یہاں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنھوں نے کروڑوں روپے کمائے ،ملک بھر میں نام کمایا اور چند نے تو دنیا بھر میں پراپرٹی بھی بنائی مگر ان کے دل بھی پڑوس ملکوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں- پاکستان کی فوج کے خلاف زہر تو ثواب سمجھ کر اگلتے ہیں اور کچھ کا تو بس نہیں چلتا کہ دشنمن ملک کی تعریفیں اہنے چینل پر بیٹھ کر کردیں انہیں اس ملک کے سیاست دانوں سے بھی ہمدردی ہے اور اس ملک کے فلم سٹارز کے ساتھ تصویریں بنوانا شائد ان کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہے

پاکستانی اداروں بالخصوص عدلیہ کا یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ایسے وطن دشمن صحافیوں کو لگام ڈالیں- پاکستان کے خلاف کوئی بھی بات کرے اسے لٹکانے کے احکامات جاری کریں- عدالت عظمیٰ کو پاکستان کے خلاف منہ کھولنے والوں کے خلاف سوو موٹو ایکشن لیں اور اسی طرح ان سے بھی زیادہ ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف بل پاس کرنے میں دیر نہ کریں جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور جن کے دل وطن دشمنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ان کے چینل پر آنے پر اسی طرح پابندی لگائیں جس طرح فوج اور آئی ایس آئی پر الزام دھرنے والے ایک لفافہ پسند صحافی پر کیپیٹل ٹاک کرنے پر لگائی

ان ضمیر فروش صحافیوں کی تعداد 20 سے زیادہ نہیں ہے اگر ان 20 صحافیوں کے گلے میں پٹہ ڈل گیا تو باقیوں کو عقل خود ہی آجائے گی اور اس طرح ہمارے پیارے وطن کے خلاف بات کرنے والے سازشیوں کی فوج میں کمی آنی شروع ہوجائے گی

Read Previous

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران میڈیا گیلری سنسان :عارف علوی بھی پریشان

Read Next

کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نون ایک بار پھر شیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *