پاکستانی معاشرہ روز بروز اسلامی اقدار سے دور ہوتا نظرآارہا ہے اس کی بڑی وجہ معاشرے کے پڑھے لکھے افراد پروفیسرز اساتزہ اور علماٰ کا اپنی نئی نسل کو ہدایت نہ کرنا ہے –
والدین بھی اپنے بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر یہ معلوم ہی نہیں کرتے کہ ا ن کے بچے موبائل کا کیا استعمال کررہے ہیں – موبائل پر خواتین کی پو سٹس کو زیادہ لائیک ملتے ہیں اس لیے لڑکے اب لڑکیوں سے متاثر ہوکر ان کا لباس زیب تن کرکے اور کاسمیٹکس کا استعمال کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے لگے ہیں –
اس پر ماضی میں شرمناک ویڈیوز بنانے والی پاکستانی سابقہ گلوکارہ رابی پیرزادہ جنھوں نے بعد ازاں شوبز چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع کیا تھا اس پر بات کیے بنا نہ رہ سکیں ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رابی پیرزادہ کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کی ڈانس ویڈیوز کو وائرل کرنے اور مردوں کے عورتوں کی نقل کرنے ” ہم اپنے معاشرے کو خود زہریلا کر رہے ہیں -ہم بحیثیت معاشرہ تنزلی کی طرف گامزن ہیں کیونکہ ہم ایسے مردوں کو آئیڈیل بنا رہے ہیں جو خواتین کی نقل کرتے ہیں اور خواتین رقص کرکے مشہور ہو رہی ہیں”۔رابی پیرزادہ نےکہا کہ” ایسی چیزیں ہمیں نہیں کرنی چاہیے، جو ہمارا معاشرہ خراب کر رہی ہوں-
حال ہی مین ایک پاکستانی لڑکی ایک شادی کی تقریب میں بھارتی گانا گاکر خوب وائرل ہوئی جس کو دیکھ کر اور بھی لڑکیوں نے ناچ گانے کی ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرنا شروع کردیں جس پر رابی پیر زادہ بہت رنجیدہ دکھائی دیں � -یاد رہے کہ رابی پیر زادہ خود بھی اس طرز کی نازیبا ویڈیوز کی بنا پر مشہور ہوئی تھیں تاہم بعدازاں انھوں نے شوبز کو خیرباد کہ کر اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کیا تھا اب وہ قرآن پاک کی خطاطی کرتی ہیں اور قرآن پاک کی تعلیم دیتی ہیں-