اقوام متحدہ کے ماہرین نے نیویارک میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آزاد صحافی اور خواتین کے انسانی حقوق کی محافظ رعنا ایوب، دائیں بازو کے ہندو قوم پرست گروپوں کی جانب سے آن لائن ہراسگی کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے اپنے ملک میں اقلیتی مسلمانوں کو متاثر کرنے والے مسائل کے بارے میں محترمہ رعنا ایوب کی رپورٹس کو نوٹ کیا اور ہندوستانی حکومت کے کوویڈ 19 وبائی امراض سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کی۔ اپنے تازہ بیان میں، محترمہ ایوب نے ریاست کرناٹک میں اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر حالیہ پابندی پر بھی تنقید کی۔
معروف انڈین صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن رعنا ایوب کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فساد اچانک پھوٹ نہیں پڑتے بلکہ اُن کے پیچھے کوئی بڑی وجہ ہوتی ہے@RanaAyyubpic.twitter.com/htGQKBwF1J
محترمہ رعناایوب کو عوامی مفاد کے مسائل پر روشنی ڈالنے اور اپنی رپورٹنگ کے ذریعے احتساب کی کوششوں کے جواب میں منظم گروہوں کی جانب سے جان سے مارنے اور عصمت دری کی دھمکیوں جیسے آن لائن پیغامات موصول ہوئے ہیں ۔