برطانیہ میں اپنی ہی پارٹی کی جانب سے شدید دباؤ اور کابینہ ارکان کے استعفوں کے سبب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
بورس جانسن سے استعفیٰ کیوں لیا گیا ؟ انہوں نے ایم آئی 6 کی کس سمری پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ؟ سوالات تو اور بھی بہت ہیں ۔ مگر آپ صرف ان دو سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کریں ۔ سب کچھ آپ کی ذہن میں آ جائیں گے ۔ pic.twitter.com/dMsmcdMKyP
وزیراعظم کی رہائشگاہ 10 ڈاوننگ سٹریٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ میں کنزرویٹو پارٹی کی صدارت سے بھی مستعفی ہو رہا ہوں لیکن نئے پارٹی صدر اور وزیر اعظم کے آنے تک ذمہ داریاں نبھاتا رہوں گا۔۔
بورس جانسن کی پارٹی کے پچاس لوگ چھوڑ کر چلے گئے بورس جانسن نے استعفیٰ دے دیا۔ اور سب کا شکریہ ادا بھی کیا مگر کسی کو چور ڈاکو غدار امریکی سازش میر جعفر میر صادق نہیں کہا۔ pic.twitter.com/hTzuS5akoQ
برطانیہ کے وزیراعظم پر دو نئی تقریوں کے بعد اپنی ہی پارٹی کی جانب سے شدید دباؤ تھا اور ان کی کابینہ کے 50 کے قریب وزیروں اور مشیروں نے ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا جس کی وجہ سے آج ان کو اپنی وزارت عظمیٰ کی کرسی سے الگ ہونا پڑا